Buton Ki Tijarat Se Aaj Ke Mazhab Faroshon Tak
بتوں کی تجارت سے آج کے مذہب فروشوں تک
سیرتِ رسول ﷺ میں ایک اہم واقعہ ملتا ہےکہ مشرکین و کفارِ مکہ نے نبی اکرم ﷺ کے سامنے دنیا کی ہر آسائش اور ظاہری کامیابی کی پیشکش/آفر رکھی۔ کہا کہ آپ چاہیں تو سرداری، دولت اور من پسند عورت سے نکاح کے مواقع سب آپ کو مل جائیں گے، بشرطیکہ ہمارے بتوں کو برا نہ کہیں۔ نبی کریم ﷺ نے دوٹوک الفاظ میں انکار کیا جس کا مفہوم یوں ہے "اگر میرے دائیں ہاتھ پر سورج اور بائیں ہاتھ پر چاند رکھ دیا جائے تب بھی میں اس مشن سے باز نہ آؤں گا"۔
یہ جواب صرف ایک انفرادی استقامت کی مثال ہی نہیں بلکہ ایک نظامِ فکر کی بنیاد تھا۔ اگر اس انکار کو سمھجا جائے تو کئی تاجرانِ مذہب و ملت، مسلک و فرقہ پر ایک کاری ضرب پڑ سکتی ہے۔ یہ انکار کئی بڑے اہم اور درج ذیل سوالات کو جنم دیتا ہے۔
کفارِ مکہ اس قدر بضد کیوں تھے کہ ان کے بتوں کو برا نہ کہا جائے؟ کیا یہ محض عقیدے کا مسئلہ تھا یا اس........
