menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Ye Circus Ka Khel Hai

27 0
08.06.2026

گلگت بلتستان میں دس دن تک جاری رہنے والا انتخابی میلہ آخر اپنے اختتام کو پہنچ گیا لاکھوں ووٹرز نے بیلٹ باکس کے ذریعے اپنے فیصلے کا اظہار کر دیا جلسے ختم ہو گئے نعروں کی گونج مدھم پڑ گئی گاڑیوں کے قافلے منتشر ہو گئے اور سوشل میڈیا پر جاری انتخابی جنگ بھی آہستہ آہستہ ٹھنڈی ہونے لگی لیکن انتخابات کے بعد ہمیشہ ایک سوال باقی رہ جاتا ہے اور وہ سوال ووٹ سے بھی زیادہ اہم ہوتا ہے کیا واقعی کچھ بدلے گا؟

ہم ایک عجیب معاشرے میں رہتے ہیں یہاں الیکشن صرف نمائندے منتخب کرنے کا عمل نہیں بلکہ امیدوں کی سالانہ یا پانچ سالہ تجدید کا نام بن چکا ہے ہر امیدوار عوام کو یقین دلاتا ہے کہ اگر اسے موقع ملا تو علاقے کی تقدیر بدل جائے گی۔ سڑکیں بنیں گی ہسپتال فعال ہوں گے سکولوں میں اساتذہ آئیں گے نوجوانوں کو روزگار ملے گا اور محرومیوں کا خاتمہ ہو جائے گا یہ وعدے نئے نہیں ہیں۔ یہی وعدے پانچ سال پہلے بھی کیے گئے تھے اس سے پہلے بھی کیے گئے تھے اور شاید آئندہ بھی کیے جاتے رہیں گے اصل مسئلہ یہ نہیں کہ سیاست دان وعدے کیوں کرتے ہیں اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم وعدوں کا حساب کیوں نہیں مانگتے دنیا کے ترقی یافتہ معاشروں میں انتخابات نعروں پر نہیں بلکہ کارکردگی پر لڑے جاتے ہیں وہاں ووٹر پوچھتا ہے کہ آپ نے گزشتہ مدت میں کیا کیا؟ کتنے سکول بنائے؟ کتنے ہسپتال بہتر کیے؟ کتنی ملازمتیں پیدا کیں؟

کتنی سرمایہ........

© Daily Urdu