menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Nazriya Ghareebon Ke Liye, Maghrib Ameeron Ke Liye?

32 0
13.10.2026

نظریہ غریبوں کے لیے، مغرب امیروں کے لیے؟

کسی بھی ریاست کی بنیاد محض جغرافیے پر نہیں رکھی جاتی اس کے پیچھے ایک نظریہ ایک اجتماعی خواب کچھ وعدے اور ایک بہتر مستقبل کی امید ہوتی ہے۔ پاکستان بھی ایک نظریاتی جدوجہد کے نتیجے میں معرضِ وجود میں آیا اس کے قیام کے وقت مسلمانوں کو ایک ایسی ریاست کا خواب دکھایا گیا جہاں وہ اپنی تہذیبی شناخت، مذہبی آزادی، معاشرتی اقدار اور اجتماعی حقوق کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔ یہ خواب صرف ایک خطۂ زمین حاصل کرنے کا نہیں تھا بلکہ ایک ایسا معاشرہ تشکیل دینے کا تھا جہاں انصاف ہو انسانی وقار محفوظ ہو اور کسی شہری کی قسمت کا فیصلہ اس کی دولت، خاندان یا طبقاتی حیثیت سے نہ کیا جائے لیکن سوال یہ ہے کہ قیامِ پاکستان کے کئی عشروں بعد ہم اس خواب کی تعبیر کہاں تلاش کریں؟ کیا نظریاتی ریاست کا تصور صرف تقریروں نصابی کتابوں، سیاسی جلسوں اور قومی دنوں کی تقاریر تک محدود ہو کر رہ گیا ہے؟ کیا نظریے کی حفاظت کا مطلب صرف غریب عوام سے قربانی مانگنا ہے؟ اور اگر یہ سرزمین واقعی اتنی مقدس اتنی عظیم اور اتنی ضروری ہے تو پھر اس کے مستقبل پر سب سے زیادہ اعتماد ان لوگوں کو کیوں نہیں جو اس کے نظریاتی تحفظ کے سب سے بڑے دعوے دار ہیں؟

یہ سوالات کسی دشمن کے نہیں اسی معاشرے کے ایک عام شہری کے ہیں جسے وطن سے محبت کا درس بھی دیا جاتا ہے اور وطن کے مسائل کا بوجھ اٹھانے کی ذمہ داری بھی اسی کے کندھوں پر ڈال دی جاتی ہے ذرا اس تضاد پر غور کیجیے۔

جب غریب کا بچہ تعلیم روزگار اور بہتر مستقبل کے لیے بیرونِ ملک جانے کا خواب دیکھتا ہے تو اسے اپنے وطن کی خدمت کرنے اپنی مٹی سے وفادار رہنے اور اپنے نظریے پر قائم رہنے کی نصیحت کی جاتی ہے۔ اسے بتایا جاتا ہے کہ اصل کامیابی اپنے ملک میں رہ کر جدوجہد کرنے میں ہے اسے اپنی تہذیب اپنی ثقافت اور اپنی مذہبی شناخت کی حفاظت کا ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے لیکن جب یہی سوال ملک کے صاحبِ اختیار صاحبِ ثروت اور صاحبِ اقتدار طبقے کے سامنے آتا ہے تو منظر بدل جاتا ہے۔ ان کے بچوں کے لیے بیرونِ ملک اعلیٰ تعلیم کے دروازے کھلے ہوتے ہیں ان کے لیے دوسرے ملکوں میں کاروبار، جائیداد شہریت اور مستقل رہائش کے امکانات موجود ہوتے ہیں ان کے مستقبل کی منصوبہ بندی میں سرحدیں رکاوٹ نہیں بنتیں وہ دنیا کے کسی بھی حصے میں رہنے پڑھنے اور کام کرنے کو اپنے بچوں کا حق سمجھتے ہیں ان کےلئے وطن کی محبت کا درس نہیں ہوتا ہے۔

یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر مغربی معاشرے ہماری نظریاتی شناخت کے لیے اتنا بڑا خطرہ ہیں تو پھر ہماری اشرافیہ اپنی اگلی نسلوں کے لیے انہی معاشروں کو ترجیح کیوں دیتی ہے؟ اگر مغرب کی تہذیب ہماری اقدار کے لیے خطرہ ہے تو پھر اپنے بچوں کے لیے وہاں کی تعلیم وہاں کا نظام اور وہاں کا مستقبل منتخب کرتے وقت یہ خطرہ اچانک غیر اہم کیسے ہو جاتا ہے؟ کیا نظریاتی خطرات بھی طبقہ دیکھ کر اپنا رویہ بدل لیتے ہیں یا پھر اصل مسئلہ مغرب نہیں بلکہ وہ طبقاتی تقسیم ہے جس کے تحت ایک ہی معاشرے میں رہنے والے لوگوں کے لیے اصول الگ الگ ہو جاتے ہیں؟

یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ کسی مغربی ملک میں تعلیم حاصل کرنا وہاں ملازمت کرنا یا مستقل سکونت اختیار کرنا بذاتِ خود کوئی جرم نہیں۔ دنیا آج ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے علم، روزگار اور بہتر زندگی کی تلاش........

© Daily Urdu