menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Aabna e Hormuz Ka Neel Aur Ana Ka Firon

45 0
24.08.2026

آبنائے ہرمز کا نیل اور اَنا کا فرعون

تاریخ بار بار وہی تماشا دکھاتی ہےکبھی فرعون دریائے نیل کو اپنی جبروت کا آئینہ سمجھتا تھا اور کبھی وہی نیل اس کے تاجِ غرور کو دفن کر دیتا تھا۔ آج کا منظر بھی اسی روایت کا ایک نیا باب ہے فرق صرف اتنا ہے کہ اس دور کا نیل آبنائے ہرمز ہے اور اس کے کنارے کھڑا نیا فرعون اپنی اقتصادی پابندیوں بحری بیڑوں اور دھمکیوں کے زعم میں یہ بھول بیٹھا ہے کہ دنیا کے کچھ راستے طاقت کے زور پر نہیں تدبیر کے زور پر کھلتے ہیں۔

آبنائے ہرمز محض پانی کا ایک راستہ نہیں یہ عالمی معیشت کی شہ رگ ہے جہاں روزانہ لاکھوں بیرل تیل کی ترسیل ہوتی ہے اسی لیے اس پر کوئی بھی کشیدگی توانائی کی قیمتوں کو لرزہ دینے عالمی تجارت کو تھرترانے اور عام انسان کی روزی کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز کو امریکی territory قرار دینے کی تجویز نے اس آتش گیر صورتِ حال میں مزید تیل کا کام کیا ہے۔

دوسری طرف، وہ ایران جسے برسوں کی سخت ترین پابندیوں دھمکیوں اور سفارتی محاصرے کے ذریعے جھکانے کی کوشش کی گئی آج مذاکرات کی میز پر اپنی شرائط کے ساتھ بیٹھا ہے۔ اس کے مطالبات واضح ہیں پابندیوں کا مکمل خاتمہ بحری ناکہ بندی کا اٹھنا جنگی نقصانات کا ازالہ اور مستقبل میں کسی بھی ایک طرفہ اقدام کے خلاف ٹھوس ضمانتیں۔ جواب میں واشنگٹن نئی پابندیوں اور فوجی دھمکیوں سے دباؤ بڑھانے کی روایت پر قائم ہے یعنی دونوں فریق مذاکرات کی میز پر تو بیٹھنا چاہتے ہیں مگر اپنی اپنی انا کا تاج اتارنے کو ابھی تیار نہیں اور یہی وہ نقطہ ہے جہاں پاکستان کا کردار معمول سے ہٹ کر اہم ہو جاتا ہے۔ آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کا آج تہران کا دورہ محض ایک رسمی ملاقات نہیں بلکہ ایک اعلیٰ........

© Daily Urdu