menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Ye Kya Hua?

19 0
13.10.2026

بھتیجے کی شادی تھی تیاریاں جاری تھیں جیسے جیسے دن قریب آرہے تھے طبیعت میں عجیب سی بے چینی اور گھبراہٹ سی تھی وجہ نامعلوم تھی۔ شادی کے لئے اسلام آباد جانا تھا تین چار دن پہلے آدھی رات کو وامٹنگ شروع ہوگئی وجہ نامعلوم ہی تھی۔ میں نے تو کہیں سے ایسا کچھ کھایا بھی نہ تھا کہ کوئی وجہ بنتی۔ میری یہ کیفیت بہت کم ہوتی ہے اگر کبھی ہوتی بھی تو ایک دو بار کے بعد طبیعت ہلکی پھلکی ہوجاتی لیکن اب تو معاملہ لگاتار جاری تھا۔

ادھر شادی سر پر آگئی بیٹی کا گھر اسلام آباد میں ہی ہے تو ایک دو دن پہلے چلے جانے کا پروگرام تھا لیکن میں اتنی نڈھال ہوگئی کہ سفر کرنا ممکن ہی نہ رہا، ناچار یہی فیصلہ ہوا کہ ملک صاحب اور چھوٹی بیٹی چلے جائیں میں نہیں جا سکوں گی۔ ولیمہ لاہور میں ہے یہاں شامل ہوجاؤں گی دونوں باپ بیٹی مجھے اس حال میں چھوڑ کر شادی پر جانے کو رضامند نہ تھے لیکن میں نے بہت اصرار کیا تو بادل نخواستہ دونوں کو جانا پڑا۔

یہ پہلا موقع تھا کہ میں اپنی کسی خاندانی تقریب سے غیر حاضر تھی وہ بھی لاڈلے بھتیجے کی شادی سے۔ میرے سب اپنوں نے میری غیر حاضری کو بری طرح محسوس کیا کیونکہ امی جان کے بعد میں ان سب کی بڑی ہوں۔ اللہ اللہ کرکے طبیعت بحال ہوئی اور میں نے شکر کیا۔

ذیادہ دن نہ گزرے تھے کہ ڈائیریا شروع ہوگیا پھر علاج اور دوائیاں! لیکن ٹھیک ہونے کی بجائے پیٹ میں درد بھی شروع ہوگیا اور یہ درد بڑھتا ہی گیا جوں جوں دوا کی۔

بیٹی ڈاکٹر ہے جب علاج کے باوجود بہتری نہ آئی تو اسے کسی گڑبڑ کا گمان ہوا اس نے میرا سی ٹی سکین کرایا اپنے ہسپتال کے سینئر ڈاکٹر کو رپورٹ دکھائی تو شک درست نکلا اس کی تصدیق کی خاطر بہت قابل ریڈیالوجسٹ ڈاکٹر عمران خان صاحب سے الٹرا ساؤنڈ اور بائیوپسی کرائی جس........

© Daily Urdu