Do Bhoore Kanche
ہم بیسویں صدی والوں کا بھی عجیب ہی المیہ ہے۔ یہ اکیسویں صدی اس قدر برق رفتار کہ اس کی کوئی اور چھور ہی سمجھ میں نہیں آتی۔ ہم پرانے وقتوں کے لوگ اس تیز بہاؤ میں، شہر میں آئے کسی نو وارد دیہاتی کی طرح حق دق منہ کھولے حیران پریشان کھڑے کے کھڑے رہ جاتے ہیں۔ اکیسویں صدی کا تحیر ہی کیا کم تھا کہ کووڈ نے اور ہی ہلواڑہ کر دیا۔ سیکڑوں، ہزاروں کا روزگار گیا اور دلکی چال پر رواں زندگی نے گویا ایک دم رفتار ہی بدل ڈالی۔
محکمہ ڈاک بھی اس بدلتی صدی کی دستبرد سے بھلا کب محفوظ! شکر کہ تھکا تھکا ہی سہی پر چل تو رہا ہے۔ ذاتی خطوط کی ترسیل تو اب برائے نام ہی رہ گئی ہے۔ لے دے کر سرکاری خطوط، بل اور پارسل پر گزاران ہے۔ میرے ادارے میں بھی خوب چھانٹی ہوئی، رب کی رضا کہ میری بچت ہوگئی۔ اب چار سال بعد میری ریٹائرمنٹ ہے، جو میں زندگی سے ریٹائر نہ ہوا تو اس فرصت کا مزہ ضرور لوں گا۔
اس تمہید سے تو آپ نے اندازہ لگا ہی لیا ہوگا کہ میں ڈاکیہ ہوں۔ اب نہ میری وہ پہلے جیسی توقیر ہے اور نہ ہی انتظار، ہائے کیسا نتھرا ستھرا زمانہ گزارا ہے ہم نے بھی۔ پوسٹ کارڈ، ایرو گرام، نیلے، پیلے لفافے۔ کبھی کبھار خوشبو میں بسے پھول دار گلابی اور کاسنی لفافے، حتیٰ کہ وہ بے مایا بیرنگ لفافے بھی اپنائیت رکھتے تھے۔ بھاری بھرکم سرکاری خاکی لفافے، منی آڈر، پرائز بانڈ اور سوغاتیں۔ کیسا شاندار ماضی ہے ہم ڈاک بابوؤں کا۔ لوگ باگ عزت سے مخاطب کرتے تھے۔ جس دروازے پر ہم محبت نامے ڈالتے، وہاں وصول کنندہ کی آنکھوں میں ممنونیت کے ساتھ ساتھ رازداری کی لجاجت بھی ہوتی۔ خاکی وردی کی نرالی شان تھی، گلیوں میں سائیکل کی گھنٹی کے ساتھ ہی چلمنیں سرکنے اور در وا ہونے لگتے تھے۔ کوئی آج جیسا حال تو نہ تھا
پھرتے ہیں میر خوار کوئی پوچھتا نہیں
لو میں بھی سٹھیا ہی گیا ہوں، قصہ کچھ سنانا تھا پر ایران توران کی کہانی لے بیٹھا۔ ڈاک میں کمی تو انٹرنیٹ........
