Unchosen
لیڈز میں ہمیں نئے گھر میں شفٹ ہوئے ابھی چار پانچ دن ہی گزرے تھے۔ ایک شام ہم سب لاؤنج میں بیٹھے تھے کہ دروازے کی گھنٹی بجی۔
میں نے دروازہ کھولا تو سامنے ایک بڑی عمر کا خوش لباس انگریز کھڑا تھا، عمر کوئی پینسٹھ ستر برس ہوگی۔ اس کے ساتھ ایک نسبتاً چھوٹے قد کی خاتون تھی جو چہرے مہرے سے عرب نژاد لگ رہی تھی۔ دونوں نے مسکراتے ہوئے ہیلو کہا اور پوچھا کہ کیا وہ چند منٹ کے لیے اندر آ سکتے ہیں۔
میں نے انہیں خوش دلی سے اندر بلا لیا۔
بیٹھنے کے بعد انہوں نے اپنا تعارف کروایا اور بتایا کہ ہمارے گھر کے قریب ہی ایک چرچ ہے، فیلوشپ چرچ، جہاں خاص طور پر بیرونِ ملک سے آنے والے طلبہ، محققین اور نئے آباد ہونے والے خاندانوں کو خوش آمدید کہا جاتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ چرچ کے دروازے سب کے لیے کھلے ہیں اور اگر ہم چاہیں تو بچوں سمیت وہاں آ سکتے ہیں۔
اتفاق سے چند دن بعد اتوار آ گیا۔ ہم نے سوچا کہ کیوں نہ چرچ جا کر دیکھا جائے۔ آخر ہم اس شہر میں نئے تھے اور دوستوں اور جاننے والوں کی ضرورت بھی تھی۔
چرچ پہنچ کر میری پہلی حیرت یہ تھی کہ وہ روایتی تصور کے مطابق چرچ بالکل نہیں تھا۔ نہ دیواروں پر حضرت عیسیٰؑ یا حضرت مریمؑ کی تصویریں تھیں، نہ مجسمے، نہ شمع دان۔ ایک سادہ سا گھر تھا جس کے اندر ایک بڑا ہال تھا۔ ماحول میں عجیب سی سادگی اور اپنائیت تھی۔
وہاں دنیا بھر سے آئے ہوئے لوگ موجود تھے۔ چینی، ویتنامی، امریکی، لاطینی امریکی، برطانوی اور کئی دوسرے ممالک کے افراد۔ چونکہ ہماری رہائش یونیورسٹی کے قریب تھی، اس لیے مختلف قومیتوں کے لوگ وہاں آتے تھے۔
کچھ مذہبی نغمے گائے گئے، چند مختصر تقاریر ہوئیں، پھر سب نے مل کر کھانا کھایا۔ ماحول میں کسی قسم کی اجنبیت نہیں تھی۔ یوں ہم نے تقریباً ہر اتوار وہاں جانا شروع کر دیا۔
ایک دو بار تو ہم خالی ہاتھ گئے لیکن پھر میں کبھی پلاؤ، کبھی پکوڑے، کبھی چکن کڑاہی اور کبھی کوئی میٹھی چیز بنا کر لے جانے لگی۔ آہستہ آہستہ لوگ ان ذائقوں کے اس قدر عادی ہو گئے کہ میری ڈشز کا انتظار کیا جانے لگا۔ اسی بہانے دوستیوں کا دائرہ بھی وسیع ہوتا گیا اور چرچ کے بعض افراد کا ہمارے گھر آنا جانا بھی شروع ہوگیا۔
انہی ملاقاتوں کے دوران میں نے ایک بات خاص طور پر محسوس کی۔
چرچ سے وابستہ خواتین کا لباس ایک خاص طرز کا تھا۔ وہ ایسے کپڑے پہنتی........
