Plastic Ka Khamosh Zehar
پاکستان میں پلاسٹک ہماری زندگی کا اس طرح حصہ بن چکا ہے کہ ہم اس کے مہلک اثرات سے بالکل بے نیاز ہو چکے ہیں۔ سب سے بڑا ظلم تو یہ ہے کہ تندور سے نکلتی ہوئی تپتی گرم روٹی فوراً غیر معیاری اور ری سائیکل شدہ پلاسٹک کے شاپر میں ڈال دی جاتی ہے، جہاں حرارت ملتے ہی شاپر کے زہریلے کیمیکلز پگھل کر اس روٹی کا حصہ بن جاتے ہیں جسے ہم بڑے شوق سے کھاتے ہیں۔ دکانوں کے باہر تپتی دھوپ میں پڑی کولڈ ڈرنکس اور پانی کی بوتلیں درحقیقت ایک "کیمیکل کاک ٹیل" بن چکی ہیں کیونکہ سورج کی شعاعیں پلاسٹک کے بانڈز توڑ کر فتالیٹس (Phthalates) جیسے زہریلے مادوں کو مشروب میں شامل کر دیتی ہیں۔
یہی حال ہمارے پسندیدہ فاسٹ فوڈ کا ہے جو پلاسٹک کی کوٹنگ والے ڈبوں میں پیک ہو کر زہر بن جاتا ہے، یہاں تک کہ اسے تیار کرنے والے سستے پلاسٹک کے دستانے بھی کیمیکلز کو برگر اور چپس میں منتقل کر دیتے ہیں۔ گھروں میں فریج کے وہ برتن اور پانی کی بوتلیں جو سالہا سال تبدیل نہیں کی جاتیں، وہ مائیکرو پلاسٹک کا سب سے بڑا ذریعہ بن کر ہماری رگوں میں اتر رہی ہیں۔
انسانی جسم درحقیقت مختلف نظاموں کا مجموعہ ہے لیکن اینڈوکرائن سسٹم........
