menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Kainat Ka Markaz: Aik Titli Ke Par Se Tawaf e Kaba Tak

9 29
10.02.2026

بٹر فلائی افیکٹ کے موجد ایڈورڈ لورینز (Edward Lorenz) نے 1960ء کی دہائی میں دنیا کو ایک حیران کن سچائی سے روشناس کرایا۔ اس نے ریاضی اور موسمیات کے ذریعے ثابت کیا کہ کائنات کا نظام ایک نازک ڈور سے بندھا ہے، جہاں برازیل میں تتلی کا پر پھڑپھڑانا ٹیکساس میں طوفان کا باعث بن سکتا ہے۔ یہ تھیوری ہمیں بتاتی ہے کہ کوئی بھی چھوٹی حرکت بے مقصد نہیں ہوتی، بلکہ وہ وقت کے ساتھ ایک عظیم الشان نتیجے کی بنیاد بنتی ہے۔

اس تھیوری کو ہم تین سادہ مثالوں سے سمجھ سکتے ہیں۔ پہلی مثال خود لورینز کا تجربہ ہے جہاں ایک معمولی اعشاریہ کی تبدیلی نے کمپیوٹر پر پورے ملک کا موسم بدل دیا۔ دوسری مثال تاریخ کی ہے جہاں ایک سپاہی کا ہٹلر کو گولی نہ مارنے کا چھوٹا سا فیصلہ دوسری جنگِ عظیم اور کروڑوں اموات کا سبب بنا۔ تیسری مثال ہماری روزمرہ زندگی کی ہے جہاں گھر سے نکلتے وقت محض دو منٹ کی تاخیر ہمیں کسی بڑے حادثے سے بچا لیتی ہے یا کسی ایسی ملاقات کا سبب بنتی ہے جو ہماری تقدیر بدل دیتی ہے۔

اب ذرا اس سائنسی حقیقت کو کعبہ کے گرد ہونے والے طواف پر........

© Daily Urdu