Aks e Muashra: Barkarton Walay Log Aur Hum
عکس معاشرہ: برکتوں والے لوگ اور ہم
یہ ماننا پڑے گا کہ وقت نے صرف گھڑیوں کی سوئیاں نہیں بدلیں بلکہ ہمارے جینے کا ڈھنگ اور معاشرے کا مزاج ہی بدل دیا ہے۔ کبھی وہ دور تھا جب انسان اور قدرت کا رشتہ گہرا تھا۔ وہ معاشرہ جو کبھی سورج کی پہلی کرن کے ساتھ بیدار ہوتا تھا آج آدھی رات کو بھی جاگ رہا ہوتا ہے۔ مجھے یاد ہے جب فجر کی اذان کے ساتھ ہی چولہے جل جاتے تھے اور گلیوں میں زندگی کی چہل پہل شروع ہو جاتی تھی مگر آج صبح آٹھ بجے بھی گلیوں پر ہو کا عالم ہوتا ہے۔
پرانے لوگ صبح جلدی اٹھنے کے عادی تھے۔ ان کا ماننا تھا کہ رزق اور برکت صبح کے وقت تقسیم ہوتی ہے۔ تب کسان کھیتوں میں ہوتا تھا اور دکاندار اپنی دکان کی دہلیز پر جھاڑو دے کر رب کا نام لے کر کام شروع کر چکا ہوتا تھا۔ آج ہم نے اس ترتیب کو الٹ دیا ہے۔ اب جب ہم صبح آنکھیں کھولتے ہیں تو بازاروں میں ویرانی ہوتی ہے، شٹر گرے ہوتے ہیں اور معیشت کا پہیہ جیسے تھم سا جاتا ہے۔ وہ برکت جو علی الصبح کے کاموں میں چھپی تھی اب شاید موبائل کی سکرینوں اور راتوں کی بے سکونی میں کہیں کھو گئی ہے۔
جب میں امورِ زندگی کے لئے مختلف شہروں کا رخ کرتا ہوں........
