Parhe Likhe Berozgaar Bache
پڑھے لکھے بے روزگار بچے
کچھ دن پہلے اپنے گائوں گیا۔ جائوں تو اجنبی لوگوں سے بھی ملاقات ہو جاتی ہے جو ملنے آئے ہوتے ہیں۔ اپنے رشتہ دار دوستوں سے تو محفل جمی رہتی ہے۔ تاہم گائوں کی نئی نسل کے بارے پوچھنا پڑتا ہے کہ یہ کس کابچہ ہے۔ ایک عجیب سی شرمندگی بھی ہوتی ہے کہ جس گائوں میں پلے بڑھے وہاں کے اب بچوں کا علم نہیں کہ کون کس کا بچہ ہے۔
خیر اس دفعہ گیا تو میں گھر سے باہر نکلا تو ایک باریش بزرگ میری طرف بڑھے۔ میں رک گیا۔ پیار محبت سے ملا تو کہنے لگے آپ سے ایک کام ہے۔ میں نے کہ جی بتائیں۔ کہنے لگے میری بیٹی کچھ پڑھی لکھی........
