Paris Ka Akhbar Farosh
علی اکبر، 1952 میں راولپنڈی شہر میں پیدا ہوا۔ اس کا اصل جرم غربت تھا۔ تعلیم حاصل کرنے کے وسائل نہیں تھے۔ لہٰذا بارہ برس کی عمر میں اسکول سے مونہہ موڑ لیا۔ چھوٹے چھوٹے کام کرتا رہا، مگر زندگی میں آگے بڑھنے کا کوئی طریقہ نظر نہیں آ رہا تھا۔ اٹھارہ برس کی عمر میں اس نے پاکستان سے ہجرت کرنے کا فیصلہ کیا۔
افغانستان کے راستے سے ایتھنز پہنچ گیا۔ وہاں ایک بحری جہاز پر معمولی سا کام کرنے لگ گیا۔ مگر تھوڑے عرصے کے بعد، ہی اسے کام سے فارغ کر دیا گیا۔ واپس پاکستان آ گیا۔ دوسری بار اس نے پھر قسمت آزمائی کی اور یونان چلا گیا۔ ویزہ ختم ہونے پر، مجبوراً وطن واپس آنا پڑا۔ تیسری مرتبہ ایمسٹرڈیم پہنچا اور دوبارہ ایک بحری جہاز پر کام کرنے لگ گیا۔ آبی جہاز، مختلف شہروں کی بندرگاہوں پر رکتا تھا۔ 1972 میں علی اکبر، Roeunنام کے قصبہ میں لنگر انداز ہوا۔ وہاں سے پیرس چلا گیا۔
یہاں آ کر، مفلوک الحالی اس کا پیچھا کرتی رہی۔ پیرس میں بھی ادنیٰ قسم کے کام کرتا رہا۔ جو پیسے کماتا پنڈی میں اپنے خاندان کو بھیج دیتا۔ خود، تکلیف میں زندگی بسر کرتا رہا۔ کبھی پلوں کے نیچے پناہ لے لیتا۔ کبھی کسی سرائے کے اس کمرے میں رات گزار دیتا، جہاں درجنوں مزید لوگ بھی سو رہے ہوتے تھے۔ ابھی قسمت کی دیوی اس پر مہربان نہیں ہوئی تھی۔ 1973 میں اسے ارجنٹائن سے تعلق رکھنے والا طالب علم ملا جو اخبار بیچتا تھا۔ علی اکبر نے زندگی میں کبھی اس طرح کا کوئی کام نہیں کیا تھا۔ مگر اس نے اخبار فروخت کرنے شروع کر دیئے۔ روز، پچاس ساٹھ یا کبھی کبھی سو کے لگ بھگ اخبار اٹھاتا تھا۔ پیرس کے سب سے امیر علاقے میں بلند آواز سے خبریں پڑھنا شروع کر دیتا تھا۔
ابتدائی دور میں، وہ "چارلی ایبڈو" اخبار بیچتا تھا۔ اس کا انداز حد درجہ منفرد تھا۔ بلند آواز سے، نہ صرف خبریں پڑھتا تھا بلکہ اس کے ساتھ ساتھ، مزاحیہ فقرے بھی کستا رہتا تھا۔ کمال کی بات یہ تھی کہ اکبر نے اخبار بیچنے کے لیے جو علاقہ منتخب کیا تھا وہاں، بہترین کیفے، ریسٹورنٹ اور دکانیں تھیں۔ جب یہ کام شروع کیا، تو پیرس میں چالیس اخبار فروش تھے مگر اس جیسی آواز میں کوئی بھی اخبار........
