menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Kulliyat e Doctor Ajmal

17 3
10.01.2026

کلیات ڈاکٹر محمد اجمل کافی عرصے سے اسٹڈی میں پڑے ہوئے تھے۔ چند دن قبل یہ کتاب اتفاقیہ طور پر سامنے آئی۔ ورق گردانی شروع کی۔ اس کو مرتب ڈاکٹر امجد طفیل نے کیا ہے اور خوب کیا ہے۔ یہ نسخہ دراصل اجمل صاحب کی بیش قیمت تحریریں ہیں، جو جمع کی گئی ہیں۔ نفسیات، تصوف اور ادب پر یہ مقالے کمال اہمیت کے حامل ہیں۔ اردو، میں اسقدر مشکل مضامین کم ہی دیکھنے کو ملتے ہیں۔ ہاں، انگریزی زبان میں ان موضوعات پر بے حد لکھا گیا ہے۔ اب اس کتاب، کے چیدہ چیدہ اقتباسات آپ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں۔

پیش لفظ میں امجد طفیل صاحب فرماتے ہیں: آج برسوں بعد جب میں ان کی اردو تحریروں کو کلیات کی شکل میں مرتب کر رہا ہوں تو مجھے محسوس ہوتا ہے کہ یوں میں ان کے ساتھ اپنی رفاقت کو دائمی شکل دینا چاہتا ہوں۔

اس سے پہلے بھی ڈاکٹر محمد اجمل کی تحریریں دوبار شمیا مجید نے مرتب کرکے شائع کی ہیں۔ لیکن زیر نظر کلیات میں آپ کو بعض ایسی تحریریں بھی ملیں گی جو اس سے پہلے عرصہ دراز سے قارئین کی نظروں سے روپوش تھیں۔ مثلاً ڈاکٹر صاحب کی پہلی تصنیف "سقراط" مدت سے دستیاب نہیں تھی۔ اس کلیات میں اس کو سب سے پہلے جگہ دی گئی ہے۔ ان کی دوسری کتاب "تحلیلی نفسیات" کو مکمل اور مربوط شکل میں کلیات کا حصہ بنایا گیا ہے۔

شخصیت نامے میں کچھ یوں لکھا گیا ہے۔ تصوف اور صوفیاء سے ڈاکٹر اجمل کی دلچسپی عمر کے ساتھ ساتھ بڑھتی چلی گئی۔ انھوں نے مغرب کے جدید علوم کا مطالعہ دقعت نظر سے کیا تھالیکن ان کے قدم اپنی تہذیبی زمین پر بھی مضبوطی سے جمے ہوئے تھے۔ مذہب میں اور تصوف میں انھیں ایسے عناصر نظر آتے تھے جو جدید ذہن کومطمئن کر سکتے ہیں اور مادی دوڑ میں جتے انسان کو روحانی آسودگی بہم پہنچا سکتے ہیں۔

1975 میں سفر حجاز کے دوران ان کی ملاقات ایک نو مسلم صوفی ٹائیٹس بروک ہارٹ سے ہوئی اور ڈاکٹر اجمل نے ان سے بیعت کی خواہش کا اظہار کیا۔ بروک ہارٹ نے مسجد نبوی میں ان سے بیعت لی۔ لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ اصل بیعت........

© Daily Urdu