menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Aath Saal Aqoobat Khano Mein

48 0
25.02.2026

آٹھ سال عقوبت خانوں میں

ملک کے اخبارات ورسائل کے مدیران میں ایک درخشاں ستارے کا نام ہے سلیم منصور خالد۔ نہ ستائش کی تمنّا نہ صلے کی پروا کی مجسّم تصویر۔ کئی کتابوں کے مصنّف ہیں مگر بنگلہ دیش امور کے اسپیشلسٹ ہیں بلکہ پی ایچ ڈی۔ بنگلہ دیش کے اصل حقائق سے وہ اپنے مضامین اور کتابوں کے ذریعے ملک کے سنجیدہ طبقوں کو آگاہ کرتے رہتے ہیں۔ وہاں کے حالیہ انتخابات کے بارے میں انھوں نے اپنے ایک تفصیلی مضمون میں جو کچھ تحریر کیا تھا وہ کافی حد تک درست ثابت ہوا ہے۔

ماضی میں حسینہ واجد اور بیگم خالدہ ضیاء کی آپس میں سخت چپقلش رہی ہے، بی این پی کے خلاف عوامی لیگ کی حکومت نے بہت سختیاں بھی کی جس کے نتیجے میں خالدہ ضیاء ایک طویل عرصے تک قید میں اور ان کا بیٹا طارق رحمان (موجودہ وزیراعظم) جلا وطن رہا۔ مگر وہاں نوجوانوں کے لائے گئے انقلاب کے بعد عوامی لیگ پابندی کے باعث الیکشن سے باہر ہوگئی۔ لہٰذا اس نے بی این پی سے پینگیں بڑھانا شروع کیں اور حالیہ انتخابات میں عوامی لیگ کے حامیوں کا اور ہندو کمیونٹی کا 98% ووٹ بی این پی کو پڑا ہے۔

جس نے ان کی کامیابی میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔ طارق رحمان پر ماضی میں کرپشن کے الزامات بھی لگتے رہے ہیں، عالمی سطح پر بھی وہ ایک اجنبی شخصیّت ہیں، اس لیے بنگلہ دیش کے عالمی خیر خواہوں کا خیال ہے کہ اگر ڈاکٹر محمد یونس ان کے ساتھ صدر ہوں تو پھر یہ جوڑی بنگلہ دیش میں استحکام اور خوش حالی لاسکتی ہے۔ حسینہ واجد نے بنگلہ دیش کو عملاً بھارت کی ایک ریاست میں تبدیل کردیا تھا جس کے تمام اہم فیصلے دہلی میں ہوتے تھے۔

اسی پالیسی کے تحت حسینہ نے جماعتِ اسلامی پر ظلم کے پہاڑ توڑ دیے اور بچّاس سال پہلے، بھارت کے مقابلے میں پاکستان کی افواج کی حمایت کرنے پر جماعت کے عمر رسیدہ لیڈروں کو بھی پھانسیوں پر لٹکا دیا، جماعت پر پابندی لگادی، اس کے دفاتر اور جائیدادیں ضبط کرلیں اور ان کا نام تک لینے والوں کے لیے جینا حرام کردیا۔ پندرہ سال ظلم اور جبر سہنے کے بعد جماعت پر سے پابندی ہٹائی گئی تو انھوں نے بھی انتخابات میں حصّہ لیا اور ستّر نشستیں جیت لیں۔ بھارت کے تجزیہ کاروں کے مطابق جماعتِ اسلامی اور ان کے اتحادیوں نے تین کروڑ سے........

© Daily Urdu