menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Wasl Ka Din Aur Iss Qadar Mukhtasir

17 10
13.01.2026

امیرؔ مینائی کا ایک شعر ہے۔ اکثر بے موقع یاد آجاتا ہے۔ یہ اس "وصل" کا نوحہ ہے جس کے لئے عاشق بہت اشتیاق سے دن گن رہاہوتا ہے۔ وصل مگر کئی دنوں کے بر قرار انتظار کے بعد "اس قدر مختصر" محسوس ہوتا ہے۔ "وصل کا دن اور اس قدر مختصر" والے مصرعے کا کسی سیاسی واقعہ کے حوالے سے یاد آجانا آپ کو جائز وجوہات کی بناء پر احمقانہ محسوس ہوگا۔ میں تاہم نہایت ایمان داری سے گزشتہ کئی دنوں سے اقرار کئے چلے جارہا ہوں کہ ان دنوں مجھ پر غالب کی بیان کردہ "بک رہا ہوں جنون میں، " والی کیفیت طاری ہے۔ کہیں کی اینٹ کو کہیں کے روڑے کے ساتھ جوڑتے ہوئے نہایت ڈھٹائی سے یہ محسوس کرتا ہوں کہ میرا طرزِ تحریر Stream of Consciousnessکے تابع ہورہا ہے۔ خیالات کا برجستہ بہائو جس کی اونٹ کی طرح کوئی کل سیدھی نہیں ہوسکتی۔

"اس قدر مختصر" والی بے بسی کا احساس مجھے پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت کے رویے کی وجہ سے ہوا۔ خیبرپختونخواہ کے وزیر اعلیٰ جناب سہیل آفریدی جب کراچی ایئرپورٹ پہنچے تو وہاں سندھ حکومت کے وزیراور عمر تمام مزدوروں کے حقوق کے لئے جدوجہد کرنے والے والد کے فرزند جناب سعید غنی نے ان کے سرپر سندھی ٹوپی اور گلے میں اجرک پہناکر ان کا استقبال کیا۔ سہیل آفریدی کو اتوار کے روز مراد علی شاہ صاحب نے ناشتے کی دعوت بھی دی۔ ایئرپورٹ سے روانہ ہوئے سہیل آفریدی کے قافلے کی ر اہ میں سندھ پولیس نے کوئی رکاوٹ نہ ڈالی۔

ریگولر میڈیا سے کہیں زیادہ یوٹیوب چینل کی بدولت جی دار حق گوئی سے ہماری ذہن سازی کی تگ ودو میں مصروف آزاد منش صحافیوں نے وفور جذبات میں بہہ کر اصرار کیا کہ حکومتِ پنجاب کا رویہ سندھ حکومت کے برعکس ان کی پنجاب آمد کے دوران مخاصمانہ تھا۔ پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت نے اس کے برعکس انداز اختیار کرتے ہوئے پیغام یہ دیا ہے کہ حالات چاہے کتنے بھی دُگرگوں کیوں نہ ہوجائیں پیپلز پارٹی کسی نہ کسی صورت جمہوری روایات کو برقرار رکھنے کی ہر ممکن کوشش کرتی ہے۔ کچھ امید پرستوں نے یہ توقع بھی باندھ لی کہ سہیل آفریدی کو خوش دلی سے سندھ میں خیر مقدم کرتے ہوئے پیپلز پارٹی مستقبل بعید میں تحریک........

© Daily Urdu