Tawajo Ka Baais Bana Ishrat Fatima Ka Pegham
آئرلینڈ میں پیدا ہوکر فرانسیسی زبان میں لکھے ڈراموں کی بدولت دنیا بھر میں مشہور ہوئے سیموئیل بیکٹ کا ذکر اس کالم میں کئی بار ہوا ہے۔ خدشہ ہے کہ آنے والے دنوں میں اس کے مزید حوالے دیتا رہوں گا۔ بنیادی وجہ اس کی ہے میری عمر۔ چلتے پھرتے اور بولتے ہوئے میں معذور بوڑھا نظر نہیں آتا۔ ربّ کے کرم سے اب تک کسی موذی مرض سے بھی محفوظ رہا ہوں۔ چند ہفتے قبل مگر اچانک ہمارے گھر میں بلڈپریشر ماپنے والی مشین آگئی۔ اس کی افادیت جانچنے کو ہنستے مسکراتے اپنا بلڈپریشر ماپا تو وہ 200کی حد کو خطرناک حد تک پار کرچکا تھا۔
ایک مہربان ڈاکٹر کو گھبرا کر فون کیا تو انہوں نے مشورہ دیا کہ میں کسی ڈاکٹر کے پاس جاکر بلڈپریشر ماپنے والے روایتی آلے سے معائنہ کرواؤں۔ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی سے بلڈپریشر ماپنے والے آلات اکثر گمراہ کردیتے ہیں۔ ان کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے ایک ڈاکٹر کے پاس گیا۔ انہوں نے روایتی آلے سے پیمائش کے بعد حیرت کا اظہار کیا کہ ابھی تک دل کے دورے یا فالج سے کیسے محفوظ رہا ہوں۔ فوراََ ہسپتال کی ایمرجنسی جانے کا مشورہ دیا۔ مجھے مگر شام 8بجے لائیو ٹی وی شو کرنا تھا۔ دوبارہ مہربان ڈاکٹر کوفون کیا تو انہوں نے حوصلہ دیا۔
گزشتہ دس برسوں سے ناشتے کے بعد بلڈپریشر کو قابو میں رکھنے والی 16ایم جی کی ایک گولی استعمال کرتا رہا ہوں۔ انہوں نے اس گولی کی ایک اور خوراک لینے کا مشورہ دیا۔ ساتھ ہی ایک گولی اور بتائی جو دل کی بے قراری اور وسوسوں کو کنٹرول کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ ان گولیوں کے استعمال کے بعد معمولاتِ زندگی میں مصروف ہوگیا۔ مہربان ڈاکٹر ہی نے مگر دوسرے دن صبح اٹھ کر نہار منہ خون دے کر چند ٹیسٹ کروانے کا مشورہ بھی دیا تھا۔ ان کے حکم پر عمل کیا۔ جو ٹیسٹ ہوئے ان کے نتائج پریشان کن نہیں تھے۔ بلڈپریشر کی واحد وجہ دل کی پریشانی و بے قراری ٹھہرائی گئی ہے۔ بلڈ پریشر کو کنٹرول کی دوا بدل کر زیادہ طاقتور بنادی گئی ہے۔ ساتھ مگر........
