Social Media Ke Aubash Londay
سوشل میڈیا کے اوباش لَونڈے
صحافت تو اب رہی نہیں "بیانیہ سازی" بن چکی ہے۔ خود کو پرانی وضع کا "اصلی اور خالص" صحافی کہلوانے کے دعوے دار مجھ جیسے قلم گھسیٹ بھی شعوری نہیں تو لاشعوری طورپر بیانیہ فروشی ہی کے دھندے میں مصروف ہیں۔ سوشل میڈیا پر پوسٹ ہوئے کالموں کے لئے زیادہ سے زیادہ قارئین کی تمنا اور شیئرز اور لائیکس کی ہوس انہیں ایسے موضوعات پر لکھنے تک محدود رکھتی ہے جو قارئین کی معقول تعداد کے دل ودماغ میں نسلوں سے جمع ہوئے تعصبات کو درست ثابت کریں۔
انٹرنیٹ کی بدولت "سٹیزن جرنلسٹ" نامی مخلوق بھی متعارف ہوچکی ہے۔ اپنے موبائل فونوں پر نصب سوشل میڈیا ایپس کو یہ مخلوق گلیوں کے اوباش لونڈوں کی طرح کسی نہ کسی وجہ سے مشہور ہوئے لوگوں کی تحقیر کے لئے استعمال کرتی ہے۔ ایسے افراد کو وافر تماش بین بھی مل جاتے ہیں۔ آوازیں کستے غول کو سراہتے تماش بینوں کی تعداد سے "اصلی اور خالص صحافی" ہونے کے دعوے دار گھبرا جاتے ہیں۔ اس تناظر میں اپنی ڈھیٹ ہڈی کا البتہ شکر گزار ہوں۔
آوازیں کستے غولِ طفلاں کا اصل مقصد اس موضوع سے توجہ ہٹانا ہوتا ہے جو زیر بحث لایا گیا ہو۔ مثال کے طورپر جمعرات کی صبح چھپے کالم میں مغربی بنگال کے انتخابی نتائج پر توجہ مبذول رکھی تھی۔ اسے سوشل میڈیا پر پوسٹ کیا تو بیرون ملک مقیم ایک لونڈے نے نہایت حقارت سے تبصرہ کیا کہ اسلام آباد تک محدود ہوا نصرت جاوید نامی صحافی یہ جانتا ہے کہ سرحد کے دور دراز صوبے مغربی بنگال میں صوبائی اسمبلی کے ایک حلقے میں ممتا بینر جی کو کیسے "ہرایا" گیا ہے۔ یہ "باخبر صحافی" مگر پاکستان میں فروری 2024ء کے انتخابات کے بارے میں خاموش رہا۔ مقصد اس فقرے کا محض میری........
