menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Sethon Ka Tail Ka Season Aur Sarkar Maai Baap Ka Dosh

19 0
20.07.2026

سیٹھوں کا تیل کا سیزن اور "سرکار مائی باپ" کا دوش

میرے چند عزیز اور قریب ترین دوست ہیں۔ ان کے خیالات سے میں اکثر متفق نہیں ہوتا۔ اختلافی گفتگو بسااوقات تلخ بحث میں بھی بدل جاتی ہے۔ ان کے خیالات سے شدید اختلاف کے باوجود ایک لمحے کو بھی ان پر ذاتی مفاد کی خاطر جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ بناکر دکھانے کا الزام نہیں لگاسکتا۔ جمعہ کی رات سے بھی ایسے ہی عزیز دوستوں کے علاوہ سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارم پر چھائے بے شمار"پڑھے لکھے افراد"سے بحث تلخ سے تلخ تر ہورہی ہے۔

تلخی بڑھاتی بحث کا آغاز جمعہ کی شام 7بج کر 15منٹ پر دکھائی "پریس کانفرنس" سے ہوا۔ لاہور کے ایک بااصول اور نیک نام خاندان کے جواں سال فرزند علی پرویز ملک نے بطور وزیر پٹرولیم اس "کانفرنس" کے دوران اعلان کیا کہ پٹرولیم مصنوعات کا تعین اب روزانہ کی بنیاد پر ہوا کرے گا۔ ایک "خودمختار" ادارہ -اوگرا- ان کے نرخوں کا اعلان کرے گا۔ ایسا کرتے ہوئے اپنی ویب سائٹ پر درآمد شدہ تیل کی وہ قیمت مشتہر کرے گا جو Platts (پلاٹ) نام کا ادارہ طے کرتا ہے۔

خبروں پر نگاہ رکھنے والے پاکستانی عوام کی اکثریت عالمی منڈی میں تیل کی قیمت جاننے کے لئے برنٹ (Brent)نامی کمپنی کے جاری کئے نرخوں سے آشنا رہی ہے۔ برنٹ مگر جو قیمت بتاتا ہے وہ درحقیقت آپ کو محض یہ بتاتا ہے کہ فرض کیا کہ آج ہم عالمی منڈی سے تیل خریدنا چاہیں تو اس کا فی بیرل کتنے ڈالر میں میسر ہوگا۔ اس نرخ کو ذہن میں رکھتے ہوئے ہم بھول جاتے ہیں کہ آج کے نرخ پر تیل کا جوآرڈر بک ہوگا وہ پاکستان کی کسی بندرگاہ پر پہنچنے میں کتنے دن لگائے گا اورفی بیرل کتنے ڈالر کا پڑے گا۔ "پلاٹ" نام کا ادارہ آپ کو وہ نرخ بتاتا ہے جو کسی مخصوص دن پاکستان کی بندرگاہ پر پہنچے تیل کیلئے درآمد کنندہ کو ایک بیرل کے لئے ادا کرنا ہوگا۔

ہماری بندرگاہ سے تیل پاکستان بھر میں پہلے پٹرول پمپوں تک پہنچایا جاتا ہے۔ بندرگاہ سے پٹرول کی ترسیل کے لئے استعمال ہوئے وسائل کا کرایہ........

© Daily Urdu