Petroleum Nirkhon Mein Yak Musht Izafe Par Siyape Ka Season
پٹرولیم نرخوں میں یکمشت اضافے پر سیاپے کا سیزن
چند دن قبل جب حکومت نے پٹرول کے ایک لیٹر کی قیمت میں یکمشت اضافے کا اعلان کیا تو محدود آمدنی والے ہر صارف کی طرح میں بھی بلبلااُٹھا۔ غصے اور مایوسی سے مغلوب ہوئے دل ودماغ کو سوشل میڈیا پر اٹھائے وہ سوال بہت واجب لگے جو اس امر پر حیرت کا اظہار کئے جارہے تھے کہ جس پٹرول کی قیمت میں 55روپے کا اضافہ ہوا ہے اسے تقریباََ 5 سے 6 ہفتے قبل ان دنوں خریدا گیا جب عالمی منڈی میں تیل کا ایک بیرل 70 سے 72 ڈالر کے درمیان فروخت ہورہا تھا۔
اس قیمت پر خریدے تیل کی قیمت میں بھاری بھر کم اضافہ درآمد کنندگان کو ایک جھٹکے میں اربوں روپے کا منافع یقینی بنادے گا۔ سیٹھ کے منافع میں یکمشت بھاری بھر کم اضافہ روکنے کے بجائے حکومت نے پٹرول پر لگائی ڈیوٹی میں اضافے کے ذریعے وہ رقم بھی جمع کرلی جو ایف بی آر نے تاجروں اور پرچون فروشوں سے مختلف ٹیکسوں کے ذریعے حاصل کرنا تھی۔ آئی ایم ایف سے قرض کی نئی قسط کے حصول کے لئے جو اہداف طے ہوئے تھے انہیں غریب اور دیہاڑی دار کے موٹرسائیکل اور رکشہ کے لئے بیچے پٹرول پر بھی لگائی لیوی کی صورت وصول کرلیا گیا۔
پٹرول کی قیمت میں ہوئے یکمشت اضافے پر سیاپے کا سیزن لگالیا تو عالمی خبروں پر نگاہ ڈالتے ہوئے دریافت کیا کہ تیل کی درآمد پر انحصار کرنے والے جن غریب ممالک نے پٹرول کی قیمت نہیں بڑھائی تھی ان کے پٹرول پمپوں پر گاہکوں کی لمبی قطاریں لگ رہی ہیں۔ پٹرول پمپ مالکان ان کی ٹینکیاں........
