menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

IMF Ke Tashkhees Karda Karve Ghoont

22 38
08.01.2026

غالباََ تین یا چار برس قبل فرانس کی ایک خاتون اور اس کے بھارتی بنگال سے ابھرے ساتھی کو معاشیات کا نوبل پرائز ملاتھا۔ انہیں انعام دینے کی وجہ یہ بتائی گئی کہ دونوں نے بھارت کے کئی دیہاتوں میں مہینوں گزارنے کے بعد حکومت کی متعارف کردہ پالیسیوں کا بغور مشاہدہ کیا۔ روزمرہّ تجربات سے ایسے نتائج اخذ کئے جنہوں نے علم معاشیات کے کالجوں میں پڑھائے بے شمار تصورات کو عملی زندگی سے بیگانہ ثابت کردیا۔ انہیں ملے انعام کی وجوہات عالمی اخبارات میں پڑھنے کے بعد میں نے ان کی لکھی ایک کتاب ڈھونڈی۔ وہ ایسی زبان میں لکھی گئی تھی جسے میرے جیسے معاشی امور سے قطعی نابلد شخص بھی بآسانی سمجھ سکتے تھے۔

مذکورہ کتاب پڑھنے کے بعد میں نے اس کے اخذ کردہ نتائج اس کالم میں بھی بیان کردئیے۔ اس گماں کے ساتھ کہ ہماری معیشت چلانے والے اس پر نگاہ ڈالنے کی کوشش کریں گے۔ یہ سوچتے ہوئے میں بے وقوف یہ بھول گیا کہ ہمارے ماہرین معیشت کمیوں کی لکھی زبان-اردو- میں لکھے اخباری کالموں کو قابلِ توجہ نہیں گردانتے۔ وہ جس عہدے پر فائز ہیں انہیں وہاں سے ہٹانے کی افواہ مگر مضافات سے شائع ہونے والے کسی چھوٹے اخبار میں بھی چھپ جائے تو متفکر ہوجاتے ہیں۔ اپنے اثرورسوخ کو مہارت سے استعمال کرتے ہوئے یہ خبر دینے والے تک پہنچ جاتے ہیں اور یہ معلوم کرنے کی ٹھان لیتے ہیں کہ ان تک پہنچی "خبر" کس حد تک مستند ہے۔ خبر "مستند" محسوس ہو تو اپنی نوکری بچانے کے لئے یہ ہی پھنے خان ہوئے وزراء اور افسران متحرک ہوجاتے ہیں اور اکثر اس میں وقتی طورپر ہی سہی کامیاب بھی ہوجاتے ہیں۔

آج کا کالم میں کسی کی نوکری جا نے کی افواہ پھیلانے کی خاطر لکھ نہیں رہا۔ اگرچہ گزشتہ چند ہفتوں سے اسلام آباد کے ہر دوسرے طاقتور ڈرائنگ روم میں معاشی امور کے ایک اہم مگر غیر سیاسی "ٹیکنوکریٹ" کے چل........

© Daily Urdu