menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Governor Raj, Long March, Darmiyani Rasta?

33 0
09.10.2026

گورنر راج، لانگ مارچ، درمیانی راستہ؟

لاہور کی ایک معروف ترین سڑک کے کنارے کئی گھنٹوں تک تنہا بیٹھے رہنے کے بعد خیبرپختونخوا کے جواں سال وزیر اعلیٰ کو جبلی طورپر دریافت کرلینا چاہیے تھا کہ تحریک انصاف کے سوشل میڈیا اور نجی محفلوں میں مرنے مارنے کو بے چین حامی فی الوقت گھروں سے نکل کر ریاستی قوت کو للکارنے کی ہمت سے محروم ہیں۔ آبادی کے اعتبار سے ہمارے سب سے بڑے شہر کراچی میں بھی سہیل آفریدی کو ایسا ہی پیغام ملا تھا۔ مذکورہ پیغام کا بغور جائزہ لیتے ہوئے وفاقی حکومت پر عمران خان کی رہائی یا ان کے لئے بطور قیدی سہولتیں یقینی بنانا ملک گیر تحریک کے ذریعے ناممکن نظر آتا ہے۔

ملک گیر تحریک کی عدم موجودگی میں فقط خیبرپختونخوا سے اسلام آباد کی جانب مارچ "اٹک کے اس پار سے" ہوئی"یلغار" کا تاثر دیتا ہے۔ آخری "یلغار" اس تناظر میں نومبر2024ء میں ہوئی تھی۔ بانی تحریک انصاف کی اہلیہ بھی اس میں شریک تھیں۔ ان کی شرکت کی بدولت میسر ہوئے جذباتی ایندھن کی طاقت سے تحریک انصاف کے چند رہ نما اور کارکنوں کی خاطر خواہ تعداد اسلام آباد کے ڈی-چوک تک پہنچ گئی۔ ریاستی قوت کے بھرپور استعمال سے وفاقی حکومت نے لیکن اسے پسپائی اختیار کرنے کو مجبور کردیا۔ علی امین گنڈاپور اور محترمہ بشریٰ بی بی "چورراستوں " کے ذریعے ہری پور کی جانب چلے گئے۔ آخری یلغارکی پسپائی کے نتیجے میں علی امین گنڈا پور وزارت اعلیٰ کے منصب سے مستعفی ہونے کو مجبور ہوئے۔ بانی کی اہلیہ سزا یافتہ........

© Daily Urdu