Faisal Vawda Ki Nazar Mein Nakam o Nikamma Hukumati Bandobast
فیصل واؤڈا کی نظر میں ناکام و نکمّا حکومتی بندوبست
انگریزی میں ایک ترکیب استعمال ہوتی ہے: Doom of Prophet اردو میں اس کا سادہ متبادل ڈھونڈ نہ پایا۔ پنجابی میں البتہ چند اشخاص کو "کالی زبان والا" کہا جاتا ہے۔ وہ جب بھی بولتے ہیں برے کی خبرہی لاتے ہیں۔ انہیں بدشگونی کا پیغامبر کہا جاسکتا ہے۔
پیپلز پارٹی یا مسلم لیگ (نون) میں شامل ہوئے بغیر ان کے ووٹوں سے سینیٹرمنتخب ہوئے فیصل واوڈا صاحب کے بارے میں لیکن میں کالی زبان کا لفظ استعمال کرنے سے اجتناب برتوں گا۔ انہیں دیانتداری سے "فیصل واوڈا-سب تو ڈاہڈا" یعنی سب سے طاقتور(یا بھاری) فیصل واوڈا پکارتا ہوں۔ میری گستاخیوں کے باوجود جب بھی ملے خلوص بھرے احترام سے ملے۔ ایک مرتبہ یہ اطلاع دیتے ہوئے شرمسار کردیا کہ ان کے والد میرے صحافتی کام کو سراہتے ہیں اور اکثر واوڈاصاحب کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ میری تحریریں اور ٹی وی سکرینوں پر ادا کئے الفاظ غور سے پڑھا اور سناکریں۔
واوڈا صاحب کی پرخلوص انکساری لیکن مجھے یہ کہنے سے باز نہیں رکھ سکتی کہ لگی لپٹی رکھے بغیر حالات کو برجستہ جرا„ سے بیان کردینے میں وہ اپنی مثال آپ ہی ہیں۔ ٹی وی سکرین کے تقاضوں کو جبلی انداز میں سمجھنے کی وجہ سے اپنی دانست میں نالائق وناکام سیاستدانوں کی بھد اڑاتے ہوئے ناظرین کو حیران کردیتے ہیں۔
کسی دور میں راولپنڈی کی لال حویلی سے اٹھے "ٹپکتی چھت تلے رہنے کو مجبور غریب"کی خودساختہ آواز ہوئے ایک صاحب بھی سکرین پر بہت رونق لگایا کرتے تھے۔ نوکری بچانے کے لئے زیادہ سے زیادہ ناظرین کی تمنا میں دل جلاتے صف اوّل کے قابل حصہ تنخواہیں لینے والے اینکر خواتین وحضرات ان کے درپرڈی ایس این جی لے کر حاضر ہوتے۔ ان کے ساتھ ون آن ون انٹرویو کرتے۔ ملکی تاریخ کے حوالے دیتے ہوئے لال حویلی کے یہ مکین انتہائی ڈھٹائی سے غلط حوالے دیتے۔ غریب کے دُکھ میں دل جلاتے۔ ان صاحب کے ہاتھ میں ایک سگار ہوتا جس کی قیمت ہزاروں........
