Do Azali Dushmano Mein Dair Pa Aman Ki Bekar Talash
دو ازلی دشمنوں میں دیرپا امن کی بیکار تلاش
میڈیا کے لئے لکھنے اور بولنے سے رزق کمانے والوں کو یہ دریافت کرنے میں بہت وقت لگتا ہے کہ سوشل میڈیا کی بدولت آپ کے الفاظ کو ملے شیئرز اور لائیکس گمراہ کن جال ہیں۔ مقبولیت کی حرص میں آپ بتدریج لوگوں میں "مقبول" دِکھتے موضوعات تک محدود ہوجاتے ہیں۔ ان موضوعات پر لکھنا چھوڑ دیتے ہیں جو آپ کی دانست میں اہمیت کے حامل ہیں۔
بھارتی بنگال جغرافیائی ہی نہیں ذہنی اعتبار سے بھی ہمارے لئے ایک اجنبی خطہ ہے۔ حال ہی میں وہاں صوبائی اسمبلی کے انتخابات ہوئے۔ مودی سرکار نے انہیں ہر نوع کی دھونس ودھاندلی استعمال کرتے ہوئے جیت لیا۔ دھاندلی ہم جیسے ممالک میں ہوئے انتخاب کے حوالے سے معمول تصور ہوتی ہے۔ بھارتی بنگال میں ہندوانتہاپسندوں کے انتخابی حوالوں سے ڈھٹائی کے ساتھ بروئے کار لائے ہتھکنڈوں کو بے نقاب کرنا میرے قارئین کی توجہ حاصل نہ کرپایا۔
میری بے ہنری کے علاوہ اس کی بنیادی وجہ یہ بھی تھی کہ بھارتی بنگال کا ذکر کرتے ہوئے میں یہ خدشہ اجاگر کرنے میں بھی ناکام رہا کہ بنگال کو فتح کرنے کے لئے مودی سرکار جو حکمت عملی اختیار کئے ہوئے ہے اس کا حتمی مقصد بھارت میں مقیم ہر مسلمان کو غدار قرار دیتے ہوئے دوسرے درجے کے شہری کے مقام تک دھکیلنا ہے۔ تعصب اور نفرت فقط بھارت میں مقیم مسلمانوں تک ہی محدود رہے تو شاید اسے نظرانداز کیا جاسکتا ہے۔ یورپ کے کئی ممالک خصوصاََ فرانس میں ان دنوں مسلم دشمن رویے عوامی سطح پر مقبول سے مقبول تر ہورہے ہیں۔ یہ رویے مگر وہاں کی حکومت نے سرکاری طورپر اپنانے سے اب تک گریز کیا ہے۔
فرانس کے برعکس مودی سرکار اپنی قوت واختیار نہایت وحشت کے ساتھ مسلمانوں کو اچھوت بنانے پر مرکوز کئے ہوئے ہے۔ انہیں نشانہ بناتے ہوئے "فساد کی اصل جڑ" قیام پاکستان کو ٹھہرایا جاتا ہے۔ حتمی نشانہ میری ناقص رائے میں لہٰذا........
