American Senate Committee Ki Hamein Khabardar Karne Ki Koshish
امریکی سینٹ کمیٹی کی ہمیں "خبردار" کرنے کی کوشش
ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل نے جب سے وحشیانہ جنگ کا آغاز کیا ہے پاکستان کی اکثریت سوشل میڈیا کے متعدد پلیٹ فارموں پر تواتر سے اس خدشے کا اظہار کرنا شروع ہوگئی ہے کہ اگلا نشانہ وطن عزیز ہوسکتا ہے۔ سوشل میڈیا پر پاکستان کو اگلا نشانہ بیان کرتے تبصرے پڑھتا اور سنتا تو عوام کے دل ودماغ پر چھائی جہالت پریشان کردیتی۔ بسااوقات یہ سوچتا کہ منیر نیازی کی طرح ہم مرنے کے شوق میں مبتلا ہوچکے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ خیال بھی ذہن میں آتا کہ اپنی اصل اوقات بھلاکر پھنے خان کی طرح اس گھمنڈ کا شکار ہیں کہ امریکہ اور اسرائیل جیسے طاقتور ترین ممالک ہم سے گھبرائے ہوئے ہیں۔
ہماری اجتماعی سوچ پر نظر بظاہر چھائی خام خیالی جھٹلانے کے لئے بے شمار کالم لکھے ہیں۔ علم وعقل کے بھرپور استعمال کے ذریعے ان کالموں میں منطقی دلائل کے ذریعے اپنے تئیں لوگوں کو سمجھانے کی کوشش کی کہ اپنی اوقات کا دیانتداری سے اعتراف کرتے ہوئے بالآخر دریافت کرلیا جائے کہ امریکہ جیسے ممالک ہم سے کسی بھی نوعیت کا کوئی خطرہ محسوس نہیں کرتے۔ انہیں خبر ہے کہ ہر تین ماہ بعد ہمیں اپنے ریاستی کاروبار کے کھاتے آئی ایم ایف کے سامنے رکھ کر گلشن کا کاروبارمزید تین ماہ تک چلانے کے لئے ایک ارب ڈالر کی قسط درکار ہوتی ہے۔ قرض کی قسطوں سے چلائے ملک سے امریکہ جیسے ملک کیوں گھبرائیں؟
بدھ کی شام سے مگر ذہن پر گزشتہ تین سے زیادہ دہائیوں سے چھائی رعونت کے بارے میں شرمندہ محسوس کررہا ہوں۔ شدت سے احساس ہورہا ہے کہ بلھے........
