menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Akhbarat Naguzeer, Inke Baghair Udasi Aur Adhoori Hayat

22 0
19.10.2026

اخبارات ناگزیر، انکے بغیر اداسی اور ادھوری حیات

میرے ہاتھ میں ذرا پرانا مگر آئی فون ہے۔ ایپل کا تین برس قبل تیار کردہ لیپ ٹاپ بھی خرید رکھا ہے۔ اس کے علاوہ گھر میں انٹرنیٹ تک رسائی کے لیے پاکستان کی ایک بڑی کمپنی کے فراہم کردہ کیبل نصب ہے۔ اس کی بدولت میری بیٹی نے مجھے سمارٹ ٹیلی وڑن پر یوٹیوب کا استعمال سکھا رکھا ہے۔ قصہ مختصر دورِ حاضر میں خبروں تک رسائی کا ہر ذریعہ میسر ہے۔

مذکورہ بالا ذرائع کے باوجود جمعہ کی صبح سے اتوار کے دس بجے تک خود کو کسی ویران جزیرے میں تنہا بیٹھا دنیا سے کٹا ہوامحسوس کرتا رہا۔ وجہ میری تنہائی کی ایک قضیہ تھا جس کی وجہ سے اسلام آباد کے اخبار فروش جمعہ کی صبح سے گھروں کو ان کی ترجیح کے اخبار مہیا نہیں کر پائے تھے۔

جمعہ کو دوپہر تک اپنے تئیں یہ فرض کرلیا کہ شاید میرے ہاں اخبار پھینکنے والے صاحب کے ساتھ کوئی ذاتی مسئلہ ہوگیا ہے۔ جمعہ کی صبح یہ کالم بھی نہیں لکھنا تھا۔ دیر تک سویا اور اٹھنے کے بعد اخبارات کے پلندے کی عدم موجودگی سے جی گھبرا گیا تو لیپ ٹاپ آن کرکے ٹویٹر اکائونٹ پر چلا گیا۔ وہاں فقط ایک صارف اپنے گھر اخبار نہ آنے کے بارے میں متفکر نظر آئے۔ ان کے پیغام سے مگر حوصلہ ہوا اورا یکس پر اعترافی بیان لکھ ڈالا کہ گھر میں اخبار نہ آنے کی وجہ سے اداس اور بے خبر محسوس کررہا ہوں۔

وہ پیغام لکھتے ہی جوابی پیغامات کا طومار بندھ گیا۔ سوکے قریب پیغامات کی یک سطری تلخیص حیرت کا اظہار تھی کہ بڈھا ابھی تک انٹرنیٹ کے ذریعے اخبار نہیں پڑھ سکتا۔ سوشل میڈیا پر چھائے تلنگوں کے لئے بڑی عمر گناہ تصور ہوتی ہے۔ عمر کے آخری حصے میں پہنچا ہر صحافی ان کی نگاہ میں غلام اور بدعنوان ہے۔ اپنی گناہ آلود زندگی........

© Daily Urdu