Main Tere Husn e Shoq Ka Column Nigar Hoo
میں تیرے حسنِ شوق کا کالم نگار ہوں
شاعری، رقص اور موسیقی ایک ہنر ہیں اور یہ ہنر اللہ تعالیٰ ہر کسی کو نہیں بخشتا۔ کبھی کبھی کسی خوش نصیب کو یہ صلاحیت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک عظیم تحفے کے طور پر عطا ہوتی ہے۔ مجھے اس پاک ذات کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ اس نے مجھ جیسے ناچیز کو شاعری جیسا ہنر عطا کیا۔
میں خدائے بزرگ و برتر کے حضور ہمیشہ سجدہ ریز رہتا ہوں کہ اس نے مجھ پر یہ کرم کیا۔
یوں تو ہمارے معاشرے میں رقص اور موسیقی کو معیوب سمجھا جاتا ہے اور اپنی جگہ یہ بحث موجود بھی ہے، لیکن میرا ذاتی عقیدہ یہ ہے کہ دل میں حسد، بغض، تکبر اور بدنیتی رکھنے سے کہیں بہتر ہے کہ انسان کے دل میں محبت اور فن کی لطافت ہو۔ اگر دل میں نفرت اور کینہ ہو اور انسان عبادت بھی کرے تو اس عبادت کا حقیقی فائدہ نہیں رہتا۔
بندۂ ناچیز کئی سالوں سے شاعری کر رہا ہے۔ میں ہمیشہ کھلے دل سے یہ بات کہتا ہوں کہ میری شاعری شاید اعلیٰ شاعری کے درجے میں نہ آتی ہو، مگر میں اپنے دل کے جذبات کو قلم کے ذریعے کاغذ پر محفوظ کرنے کی کوشش ضرور کرتا ہوں۔ کبھی کبھی یہی جذبات بعد میں بہتر شعر کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ ایک شعر مکمل ہونے کے بعد مجھے ایسی خوشی ہوتی ہے جیسے میں نے کوئی بڑی کامیابی حاصل کر لی ہو۔
آج سے تقریباً پندرہ سولہ برس پہلے ہمارے حسین شہر گلگت کے حالات اکثر کشیدہ رہتے تھے۔ انہی حالات کے تناظر میں بندۂ ناچیز نے ایک نظم لکھی تھی جسے لوگوں نے بہت پسند کیا۔ خاص طور پر گلگت بلتستان کے نامور شاعر و ادیب جمشید خان دکھی صاحب نے اس نظم کو بے حد سراہا۔ بعد ازاں 2012-13 میں اسکردو میں منعقد ہونے والے ایک مشاعرے میں انہوں نے مجھے یہ نظم پڑھنے کی دعوت دی۔
جب میں نے وہ نظم مشاعرے میں سنائی تو محفل میں موجود سامعین نے بہت داد دی۔ اس نظم کے چند اشعار قارئین کی خدمت میں پیش ہیں:
جنت نظیر شہر پر کس کی نظر لگی سن کر تمہارا نام میرے دل میں تھی خوشی
گلگت میرے حسین شہر تجھ پہ ہو سلام لکھتا رہا ہوں تجھ پر میں نوحہ کبھی کبھی
ناحق لہو بہا ہے جب سے دوستو رزقِ حلال، امن و امان بھی چلی گئی
ناصر شمیم کہتا ہے یہ ہاتھ جوڑ کر یاروں خدا کے واسطے چھوڑو یہ بے خودی
اس نظم کو ارضِ شمال کے معروف شاعر اور سفیرِ امن جمشید خان دکھی صاحب نے بار بار سنانے کی فرمائش کی، جو میرے لیے بہت بڑا اعزاز اور خوشی کا لمحہ تھا۔
دو ہزار بیس میں میں نے ایک اور غزل لکھی اور اس کی اصلاح کے لیے گلگت بلتستان کے استاد شاعر پروفیسر حشمت علی کمال الہامی صاحب کی خدمت میں پیش کی۔ انہوں نے غزل ایک مرتبہ پڑھی، پھر اپنی کرسی سے اٹھ کر مجھے گلے لگایا اور بہت داد دی۔ انہوں نے فرمایا:
"ناصر شمیم! آپ نے اپنے مخصوص انداز میں یہ غزل بہت خوب لکھی ہے۔ اس کی تعریف کے لیے میرے پاس الفاظ نہیں۔ آپ نے کم عمری میں ایسی غزل لکھ کر ادب پر بڑا احسان کیا ہے"۔
اس غزل کے چند اشعار قارئین کی نذر ہیں:
زخم جب میں نے تیری چاہت میں کھائے تھے بہت معجزہ ایسا ہوا، میں بن گیا شاعر شمیم
اس نے یہ کہہ کر بڑھایا عشق میں میرا مقام عاشقی میں تو ہی اول، تو ہی ہے آخر شمیم
میرا مذہب ہے محبت بانٹ لینا کو بہ کو اس لیے کہتے ہیں مجھ کو لوگ اب کافر شمیم
چاہتا ہے وہ مجھے، یہ ہوگیا آخر یقین جب لکھا اس نے حنا سے ہاتھ پر ناصر شمیم
بندۂ ناچیز نے مولا رضاؑ کی زیارت کے شوق میں ایک ہدیۂ تبریک بھی لکھا، جس کے چند اشعار حاضر ہیں:
مولا محبتوں کا سفر کیجیے عطا میری دعا میں کوئی اثر کیجیے عطا
اور آپ کی عطاؤں کا جن پر ثمر لگے مولا رضا مجھے وہ شجر کیجیے عطا
آنکھیں ضریحِ پاک کو چھونے کو ہیں ابھی اس بے خبر کو ایسی خبر کیجیے عطا
الفت میں آپ ہی کی جو نہرِ رواں بنے مولا مجھے وہ دیدۂ تر کیجیے عطا
پہنچائے آپ تک ہنر باکمال جو ناصر کو اس ہنر کی ہنر کیجیے عطا
میں ایک بار پھر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے مجھ جیسے ناچیز کو علم و ادب اور شاعری سے شغف رکھنے کی صلاحیت عطا کی۔
آخر میں اسی غزل کے چند اشعار کے ساتھ آپ سے اجازت چاہتا ہوں:
رنگِ حنا میں ہے تیری تصویر کی جھلک اور میں اسی جھلک کے لیے بے قرار ہوں
لکھتا ہوں تیرے نام مضامین ہفت رنگ میں تیرے حسنِ شوق کا کالم نگار ہوں
