menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Sahafiyon Ki Giraftariyan

41 0
18.09.2026

مجھے خوشی ہے کہ صحافی اور یوٹیوبر بلال غوری کو ضمانت پر رہا کر دیا گیا ہے مگر اس سے پہلے اور اس سے کہیں زیادہ افسوس ان کی گرفتاری اور ریمانڈ کا ہے۔ صحافیوں کی گرفتاریاں کسی حکومت اور معاشرے کے لئے فخر کا باعث نہیں ہوتیں۔ میں رپورٹرز ود آوٹ بارڈرز، کی آزادی صحافت کے حوالے سے درجہ بندی دیکھ رہا تھا تو پاکستان اس برس ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس میں شامل 180 ممالک میں سے 153ویں نمبر پر ہے، ہم بنگلہ دیش سے ایک درجہ پیچھے اور بھارت سے چار درجے بہتر ہیں۔ میں اس کالم کو لکھنے سے پہلے ہی واضح کر دوں کہ میری بلال غوری کے ساتھ نہ کوئی گہری دوستی ہے اور نہ کوئی ہم خیال گروپ، بس منہ دیکھے کی عزت ہے جب کبھی کہیں کوئی ملاقات ہوجائے مگر بطور صحافی یہ میری ذمے داری ہے کہ میں اس صورتحال پر حکومت اور مقتدرہ کی توجہ دلاؤں۔

میں شروع میں ہی واضح کر دوں کہ اگر صحافیوں کے آزادی اظہار رائے کے حوالے سے حقوق ہیں تو ان شہریوں کے بھی حقوق ہیں جن کے بارے صحافی گفتگو کرتے ہیں اور وہ شہری کسی بھی عہدے پر اور کسی بھی شعبے میں ہوسکتے ہیں اور جب ہمیں بات کرنی ہے تو کسی ایک کی نہیں کرنی، سب کی کرنی ہے مگر یہاں ایک بنیادی سوال ہے کہ کیا ایک رائے کے اوپر فوجداری مقدمہ ہوتا ہے یا سول۔ اس پر تحقیق کر لیجئے کسی مہذب، آئینی اور جمہوری ملک میں صحافتی خدمات پر اعتراضات میں مقدمہ درج ہوتا ہے نہ ہی صحافی کی گرفتاری ہوتی ہے کیونکہ اگر آپ ایک ایک خبر اور ایک ایک تجزیے پر صحافیوں کی گرفتاریاں شروع کر دیں گے تو نہ صحافت بچے گی اور نہ........

© Daily Urdu