menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

IPPs: Maashi Nasoor

13 0
latest

آئی پی پیز: معاشی ناسور

پاکستان میں توانائی کے بحران کو حل کرنے کے لیے 1990ء کی دہائی میں نجی بجلی گھروں آئی پی پیز کا جو ماڈل متعارف کرایا گیا، وہ بظاہر اس وقت کی ہنگامی ضرورت معلوم ہوتا تھا، لیکن وقت نے ثابت کیا کہ یہ لائحہ عمل ملکی معیشت کے لیے ایک ایسا دائمی اور دیمک زدہ بوجھ بن چکا ہے جو ریاست کی بنیادوں کو کھوکھلا کر رہا ہے۔ آئی پی پیزکے یہ معاہدے جس میں بجلی پیدا کی جائے یا نہ کی جائے، ریاست کو ہر صورت بجلی گھروں کی پیداواری صلاحیت کی ادائیگی (Capacity Payments) کا پابند بناتا ہے، آج پاکستان کو ایک سنگین معاشی دلدل میں دھکیل چکا ہے۔

آئی پی پیز کے ابتدائی دور سے لے کر آج تک، مختلف ادوارِ حکومت میں ان معاہدوں کی شرائط کو ڈالر کی شرحِ مبادلہ، تحریری منافع اور لائف ٹائم ریٹرنز کے نام پر مسلسل تحفظ فراہم کیا گیا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا رہا کہ آج پاکستان کی مجموعی پیدا کاری صلاحیت تو تقریباً 41 سے 42 ہزار میگا واٹ تک جا پہنچی ہے، لیکن ہماری زیادہ سے زیادہ کھپت یا طلب 25 سے 26 ہزار میگا واٹ سے اوپر نہیں جا پا رہی۔ اس اضافی اور معطل پیداواری صلاحیت کا خمیازہ وہ "کیپیسٹی چارجز" ہیں جو بجلی کا ایک یونٹ استعمال کیے بغیر بھی قوم کے گلے کا طوق بنے ہوئے ہیں۔ جن بجلی گھروں کو ضرورت کے وقت بند رکھا جاتا ہے، ان کو بھی اربوں روپے ادا کرنے کے لیے عوام پر روز نئے ٹیکس، بجلی کے اضافی فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز اور ہوشربا بلوں کا بوجھ ڈالا جا رہا ہے۔

حال........

© Daily Urdu