menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Bahawalpur Jo Suba Tha

32 0
09.09.2026

بہاولپور کا خطہ پاکستان میں ایک ادھورے باب کی مانند ہے جو ہر کچھ عرصے بعد اپنی شناخت کی بازیافت کے لیے نئے سرے سے کروٹ لیتا ہے۔ ستمبر 2026 میں ریاست بہاولپور کے ولی عہد پرنس بہاول عباس خان عباسی کی جانب سے صوبہ بحالی کی نئی تحریک کا آغاز اسی تاریخی تسلسل کا ایک نیا سلسلہ ہے، جو ہمیں مجبور کرتا ہے کہ ہم اس خطے کی ماضی سے لے کر حال تک کی پوری کہانی کا ازسرنو منصفانہ، سنجیدہ اور گہرا جائزہ لیں۔

1947 میں قیام پاکستان کے وقت ریاست بہاولپور برصغیر کی اہم ترین اور خود مختار مسلم ریاستوں میں شامل تھی، جس نے آزاد پاکستان کے ساتھ الحاق کا تاریخی فیصلہ کیا۔ بعد ازاں 30 اپریل 1951 کو حکومتِ پاکستان اور امیر آف بہاولپور کے درمیان ایک اہم "سپلیمنٹری انسٹرومنٹ آف ایکسیشن" طے پایا، جس کے تحت بہاولپور کو قانون سازی اور انتظامی امور میں اس وقت کے دیگر صوبوں کے مساوی حقوق دیے گئے۔ دفاع، خارجہ اور مواصلات جیسے مرکزی امور کو چھوڑ کر تمام اختیارات ریاست کے پاس رہے اور مالیاتی امور میں بھی اسے باقاعدہ صوبے کا درجہ ملا۔ اس مضبوط آئینی فریم ورک کا نتیجہ یہ نکلا کہ 1952 میں بہاولپور میں 49 ارکان پر مشتمل ایک باقاعدہ قانون ساز اسمبلی وجود میں آئی اور مخدوم زادہ سید حسن محمود بہاولپور کے پہلے منتخب وزیر اعلیٰ بنے۔ یہ جمہوری و انتظامی ڈھانچہ 14 اکتوبر 1955 تک پوری طرح فعال رہا، جب ون یونٹ کے تحت مغربی پاکستان کے تمام صوبوں اور ریاستوں کو یکجا کرکے ایک اکائی میں تبدیل کر دیا گیا اور بہاولپور کی الگ صوبائی شناخت کو ختم کر دیا گیا۔

ون یونٹ کا یہ تجربہ زیادہ دیرپا ثابت نہ........

© Daily Urdu