Aate Daal Ka Bhao
گزشتہ تین برس سے فدویہ بہ سلسلہ ملازمت ایک خود مختار خاتون کے طور پر رہ رہی ہے۔ اکیلی رہنے کے باوجود بجلی، گیس، پٹرول اور باورچی خانہ سنبھالنے میں بوجوہ مہنگائی مجھے مشکل پیش آتی ہے۔ مہینے کے آخر میں والد صاحب کو فون کرتی ہوں کہ کچھ پیسے بھیجئے تا کہ کھانا کھا سکوں تو وہ ہنستے ہوئے کہتے ہیں، اب معلوم ہوا ناں "آٹے دال کا بھاو" اس پر فدویہ کہتی ہے کہ میدان عمل میں اتری ہوں تو معلوم ہوا کہ زندگی کے حقائق کیا ہوتے ہیں، گھریلو بلز کے لئے خرچ کیسے متوازن رکھا جاتا ہے۔
اب میں نے تو پچھلے تین برس میں یہ سب سیکھ لیا ہے مزید بھی سیکھوں گی لیکن ملکی بجٹ بنانے والے ہمارے حکومتی نمائندے گزشتہ کئی برس سے عوام دوست بجٹ نہیں بنا سکے ہیں، کیونکہ وہ میدان عمل میں نہیں اترے ہیں۔ اسمبلی کی نشستوں پر وڈیرے، سرمایہ دار و جاگیردار براجمان ہیں جن کی اپنی ذاتی فیکٹریاں اور جائدادیں ہوں، وہ بھلا عام آدمی کی مشکلات کیسے سمجھ سکتے ہیں۔
بجٹ سے براہ راست واسطہ خواتین کا ہوتا ہے، جو ہمارے معاشرے میں باورچی خانہ اور گھر سنبھالنے کی اہم ذمہ دار ہیں۔ قومی سطح پر بجٹ بنانے میں ملک کی پڑھی لکھی مختلف شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ خواتین سے نہ ہی مشورہ طلب کیا جاتا ہے نہ ہی ان کی رائے کو شامل کیا جاتا ہے۔ نہ ہی وہ بجٹ کمیٹی میں نظر آتی ہیں۔........
