menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Haramain Shareefain Ka Aik Aur Bulawa

26 0
08.01.2026

یہ گزشتہ سال کی بات ہے کہ ایک بار پھر حرمین شریفین کی زیارت کے لیے بلاوا آیا۔ جس دن عمرہ کا ویزہ لگا تو بے اختیار آنسو نکل پڑے اور رب کے حضور سجدہ شکر بجا لایا۔ اس مقدس سفر میں میرے ایک رفیق بھی شامل سفر تھے مگر عین روانگی سے تین دن قبل ان کے گھر میں بیماری کا لاحقہ لگ گیا جس کی وجہ سے وہ بہ وجوہ سفر سے رہ گئے۔ اب اتنا ٹائم نہیں تھا کہ کسی اور کو رفیق سفر بناتا اور تنہا سفر کرنا بھی مشکل لگ رہا تھا، مگر چونکہ یہ ایک ایسا سفر تھا جس میں تمام مشکلات کو بہ خوشی دلی طور پر قبول کر چکا تھا اور یوں تنہا حرمین شریفین کے مقدس سفر کو روانہ ہوا۔

سعودی ائیرلائن سے براستہ ریاض جدہ جانا تھا۔ پرواز اپنے وقت سے کافی ٹائم پہلے ریاض پہنچ گئی اور کچھ گھنٹے وقفے سے دوسری پرواز سے ریاض سے جدہ کے لیے روانہ ہوئے۔ یہاں بھی حسبِ سابق پرواز اپنے وقت سے پہلے پہنچ گئی۔ تمام مسافر باری باری اپنا اپنا سامان وصول کرنے کے لیے قطار میں کھڑے تھے۔ سو میں بھی انتظار کرنے لگا تقریباََ ڈیڑھ دو گھنٹے تک تمام مسافروں کا سامان آ چکا تھا اور وہ مکہ مکرمہ جانے کے لیے بسوں میں روانہ ہو چکے تھے۔ لگ بھگ رات تین بجے کا ٹائم تھا، مگر میرا بیگ ابھی تک غائب تھا جس پر کافی پریشان ہوامتعلقہ حکام سے بات کی تو انہوں نے بتایا کہ شاید ریاض میں رہ گیا ہوگا آپ پریشان نہ ہوں، بیگ ہم آپ تک پہنچا دیں گے۔ اس موقع پر گڑگڑا کر رویا کہ یارب اب یہاں تک پہنچاہی دیا ہے تو باقی معاملات میں بھی آسانی فرما دے۔

خیر، آن لائن کمپلین نوٹ کروانے کے بعد اللہ کا نام لے کر بغیر سامان کے بس کے ذریعے سیدھا مکہ مکرمہ روانہ ہوا اور راستے بھر میں رب کے حضور دعائیں مانگتا رہا کہ اللہ پاک کرم نوازی فرمائے۔ جدہ پہنچتے پر صرف اپنا ہوٹل کنفرم کیا اور بغیر کسی تاخیر کے حرم شریف روانہ ہوا۔ حرم شریف پہنچا تو بیت اللہ شریف جانے کے لیے راستہ بند کردیا گیا تھا۔ بتایا گیا کہ کچھ دیر میں فجر کی اذان ہوگی پھر راستہ کھول دیا جائے گا۔ چنانچہ کچھ نوافل پڑھ کر اذان کے انتظار میں مسجد حرام کے صحن ہی میں بیٹھے رہے۔ اذان کے بعد جیسے ہی نماز سے فارغ ہوئے، بیت اللہ شریف جانے کے لیے راستہ کھول دیا گیا۔

رب کے شکرکے ساتھ میں نے بھی موقع کو غنیمت سمجھا اور بیت اللہ شریف پہنچا۔ جیسے ہی بیت اللہ شریف پر پہلی نظر پڑی تو بے اختیار خوشی کے آنسو روانہ ہوئے۔ کافی دیر تک اسی کیفیت میں کھڑا رہا دعاء کی اور پھر طواف شروع کیے۔ طواف اور سعی سے فارغ ہونے کے بعد مسجد حرام کے صحن کے متصل ہی حجام سے استرا کرایا اور احرام کی پابندیوں سے آزادی ملی۔ سیدھا ہوٹل کا رخ کیا، راستے میں ناشتہ کرکے ہوٹل پہنچا جس کا انتظام برادر صغیر مولانا حفیظ الرحمن کے برادر........

© Daily Urdu