Imran Khan Istemal Ho Gaye?
عمران خان استعمال ہو گئے؟
1989ء میں برلن کی دیوار گری تو دنیا نے ایک عجیب منظر دیکھا۔ ایک ایسی دیوار جسے برسوں تک ناقابلِ شکست سمجھا جاتا تھا، اچانک لوگوں کے ہتھوڑوں کے سامنے بے بس نظر آنے لگی۔ لوگ حیران تھے کہ یہ دیوار اتنی جلدی کیسے گر گئی؟ حقیقت یہ تھی کہ دیوار ایک دن میں نہیں گری تھی، اس کے پیچھے حالات برسوں سے بدل رہے تھے۔ بس ایک دن ایسا آیا جب لوگوں کو معلوم ہوا کہ طاقت کا وہ توازن جس پر دیوار کھڑی تھی، اب باقی نہیں رہا۔
سیاست بھی کچھ ایسی ہی چیز ہے۔ یہاں بھی بعض اوقات ایک شخص کو اس وقت تک طاقتور سمجھا جاتا رہتا ہے جب تک حالات کا توازن اس کے حق میں ہوتا ہے۔ جونہی توازن بدلتا ہے، طاقت کے دعوے، نعرے اور سیاسی تصورات سب نئے معنی اختیار کر لیتے ہیں۔
آج تحریک انصاف کے سوشل میڈیا پر عمران خان کی تصویریں لگا کر نیچے لکھا جاتا ہے "سسٹم کا باپ"۔ خان صاحب کے ڈٹ کر کھڑے ہونے، ڈیل نہ کرنے اور ریاست کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دینے کے دعوے بھی مسلسل کیے جاتے ہیں، لیکن پمز ہسپتال کا حالیہ واقعہ دیکھ کر میرے نزدیک ایک بات واضح ہوگئی ہے کہ عمران خان صاحب استعمال ہو گئے ہیں۔
میں یہ بات آج نہیں کہہ رہا۔ جب سے عمران خان جیل گئے ہیں، میں اپنے تحریک انصاف کے دوستوں سے مسلسل کہہ رہا ہوں کہ بات یہ نہیں کہ عمران خان ڈیل کرنے کے لیے تیار نہیں، اصل بات یہ ہے کہ عمران خان کے ساتھ فی الحال کوئی ڈیل کرنے کے لیے تیار نہیں۔ سیاست ضرورت کا کھیل ہے اور فی الحال شاید عمران خان کی ضرورت محسوس نہیں کی جا رہی۔ پمز ہسپتال کا واقعہ اس بات کو سمجھنے کے لیے کافی ہے۔
ریاست نے عمران خان کو ہسپتال پہنچایا اور یوں تحریک انصاف، اس کے سوشل میڈیا اور یوٹیوبرز کے اس دعوے کی بھی ہوا نکال دی کہ خان صاحب کسی ڈیل کے لیے تیار نہیں اور ریاست ان کے سامنے بے بس ہے۔ اگر کوئی شخص ریاست کی پہنچ سے باہر ہو تو ریاست اسے جیل سے اٹھا کر ہسپتال کیسے لے جاتی ہے، ڈاکٹروں........
