menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Deadlock Ke Peeche Chupi Hikmat e Amli

29 0
14.04.2026

ڈیڈلاک کے پیچھے چھپی حکمتِ عملی

اسلام آباد کے بند کمروں میں دنیا کی دو بڑی طاقتیں آمنے سامنے بیٹھی تھیں۔ باہر خاموشی تھی، اندر لفظوں کا شور تھا۔ میز کے ایک طرف جے ڈی وینس بیٹھے تھے اور دوسری طرف عباس عراقچی۔ دونوں کے درمیان فاصلے زیادہ نہیں تھے مگر سوچوں کے درمیان فاصلہ بہت گہرا تھا۔

مجھے اس منظر سے اچانک تاریخ کا ایک واقعہ یاد آ گیا۔

مصطفیٰ کمال اتاترک نے اپنے قریبی ساتھی عصمت انونو کو ایک اہم عالمی اجلاس میں بھیجا۔ رخصت کرتے وقت انہوں نے ان کی آنکھوں میں دیکھا اور آہستہ سے کہا: "فیصلہ نہیں کرنا، وقت لینا ہے"۔ انونو نے سر ہلایا اور خاموشی سے روانہ ہو گئے۔

اجلاس شروع ہوا۔ ایک بڑا ہال، لمبی میز، گردنیں تن کر بیٹھی ہوئی، ہر شخص اپنے ملک کا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھائے ہوئے۔ آوازیں بلند ہو رہی تھیں، دلائل دیے جا رہے تھے، ہاتھ میز پر پڑ رہے تھے، فائلیں کھل رہی تھیں۔ مگر اس ہجوم میں ایک شخص ایسا بھی تھا جو مکمل خاموش تھا۔

وہ کرسی پر سیدھے بیٹھے تھے، چہرے پر غیر معمولی سکون تھا۔ جب بھی کوئی سوال ان کی طرف آتا، وہ ذرا سا آگے جھکتے جیسے غور سے سن رہے ہوں، پھر آہستہ سے جیب سے ایک چھوٹا سا کاغذ نکالتے، اسے دیر تک دیکھتے کچھ پڑھتے اور پھر اسے دوبارہ تہہ کرکے جیب میں رکھ لیتے۔ کبھی کبھی وہ سر ہلاتے، کبھی ہلکی سی مسکراہٹ، مگر کوئی واضح جواب نہیں۔

کمرے میں بیٹھے لوگوں کو آہستہ آہستہ یہ احساس ہونے لگا کہ شاید وہ سن نہیں سکتے۔

اجلاس میں شریک لوگ تنگ آ گئے ہال کے باہر ایک توپ لا کر کھڑی کر دی گئی۔ کھڑکیوں کے پار اچانک توپ کو حرکت دی گئی۔ اگلے ہی لمحے زور دار دھماکہ ہوا۔ آواز اتنی شدید تھی کہ میز پر رکھے گلاس تک لرز گئے، کچھ لوگ بے اختیار اٹھ کھڑے ہوئے۔ مگر........

© Daily Urdu