Cinema Se Wazarat e Aala Tak
سنیما سے وزارتِ اعلیٰ تک
رات کے دو بج رہے تھے۔ چنئی کی سڑکوں پر شور بڑھتا جا رہا تھا۔ نوجوان موٹر سائیکلوں پر جھنڈے لہرا رہے تھے، عورتیں بالکونیوں سے پھول پھینک رہی تھیں، آتش بازی ہو رہی تھی اور پورا شہر ایسے لگ رہا تھا جیسے کسی سپر ہٹ فلم کا آخری منظر چل رہا ہو۔ لیکن یہ فلم نہیں تھی۔ یہ جمہوریت تھی۔ بھارتی ریاست تامل ناڈو میں فلمی دنیا کے سپر اسٹار جوزف وجے اقتدار کے دروازے تک پہنچ چکے تھے۔
یہ جمہوریت ہی ہے کہ جہاں عوام کبھی ایک چائے والے کو وزیر اعظم بنا دیتے ہیں اور کبھی فلموں کے ہیرو کو ریاست کا حکمران۔ تامل ناڈو تو ویسے بھی فلمی سیاست کی سرزمین رہی ہے۔ یہاں ایم جی رام چندرن اور جے للیتا جیسے فلمی ستارے برسوں حکومت کرتے رہے۔ اب اسی روایت میں ایک نیا نام شامل ہو چکا ہے: جوزف وجے۔
22 جون 1974ء کو چنئی میں پیدا ہونے والے جوزف وجے ایک فلمی گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کے والد ایس اے چندر شیکھر فلم ڈائریکٹر تھے جبکہ والدہ شوبھا چندر شیکھر گلوکارہ تھیں۔ گھر میں فلمی دنیا کا ماحول تھا۔ کہیں موسیقی کی ریہرسل ہو رہی ہوتی، کہیں اسکرپٹ پر بحث چل رہی ہوتی اور کہیں شوٹنگ کی باتیں ہو رہی ہوتیں۔ شاید یہی وجہ تھی کہ جوزف وجے کا بچپن عام بچوں جیسا نہیں تھا۔
انہوں نے تعلیم چنئی میں حاصل کی اور بعد میں ویژول کمیونیکیشن کی تعلیم کے لیے کالج میں داخلہ لیا لیکن فلمی مصروفیات کی وجہ سے تعلیم مکمل نہ کر سکے۔ بھارت میں ایک عرصے تک یہ افواہ گردش کرتی رہی کہ انہیں کالج سے نکال دیا گیا تھا، لیکن اس بات کی کبھی کوئی مستند تصدیق سامنے نہیں آئی۔ حقیقت یہی سمجھی جاتی ہے کہ فلمی دنیا نے انہیں کتابوں سے زیادہ اپنی طرف کھینچ لیا۔
فلمی خاندان میں پیدا ہونا کامیابی کی ضمانت نہیں ہوتا۔ جوزف وجے کے ابتدائی دن آسان نہیں تھے۔ ان کی اداکاری پر تنقید ہوتی تھی،........
