Wapsi Kyun Nahi?
فیض احمد فیض اس ملک کا سب سے بڑا شاعر تھا۔ لفظ جس کے پاس امانت تھے، خواب جس کی جیب میں رکھے ہوئے تھے۔ لیکن 1951 میں اسی پاکستان نے اپنے اسی شاعر کو راولپنڈی سازش کیس میں گرفتار کر لیا۔ وہ چار سال جیل میں رہا۔ بیروت، لندن، جلاوطنی، پابندیاں، خاموشی۔ دنیا نے 1963 میں اسے لینن امن انعام دیا، اپنے ملک نے اس پر شک کیا، اسے بند کیا، اس کی نظموں سے خوف کھایا۔
اب آپ خود سوچیے۔ اگر ایک ریاست اپنے سب سے بڑے شاعر کو تحفظ نہ دے سکی تو آج کا نوجوان انجینئر، ڈاکٹر، محقق یہ کیوں یقین کرے کہ واپسی پر اس کی جان، اس کا ضمیر اور اس کی رائے محفوظ رہے گی؟
ہم عام طور پر ایک آسان جواب دیتے ہیں۔ ہم کہتے ہیں بیرون ملک جانے والا پاکستانی اس لیے واپس نہیں آتا کہ وہاں تنخواہ زیادہ ہے۔ یہ بات غلط نہیں، مگر ادھوری ہے۔ برطانیہ میں ایک ڈاکٹر سال کے اسی ہزار پاؤنڈ کما لیتا ہے اور پاکستان میں شاید آٹھ ہزارپاؤنڈ پر کھڑا ہو۔ یہ فرق ہر شخص کو نظر آتا ہے۔ لیکن اصل مسئلہ یہ نہیں۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ اگر وہی ڈاکٹر واپس آ کر کراچی میں کلینک کھولے تو کیا وہ زندہ بھی رہے گا؟ کیا اسے بھتہ نہیں دینا پڑے گا؟ کیا اس کے بچوں کو دھمکیاں نہیں ملیں گی؟ کیا وہ کسی غلط سیاسی رائے، کسی مسلکی شناخت، یا اپنی ایمانداری کی قیمت اپنے خون سے نہیں چکائے گا؟
بیرون ملک پاکستانی طالب علم یا ریسرچ سکالر تنخواہ سے زیادہ تحفظ دیکھتا ہے۔ وہ سڑک اور اسپتال نہیں دیکھتا، وہ یہ دیکھتا ہے کہ میں اپنی بات کہہ سکتا ہوں یا نہیں۔ میں اپنے پیشے میں دیانت دار رہ سکتا ہوں یا نہیں۔ میں اپنے عقیدے کے ساتھ زندہ رہ سکتا ہوں یا نہیں اور اگر میں نے انکار کیا تو کیا رات کو میرے دروازے پر دستک ہوگی؟
پاکستان کا المیہ یہ ہے کہ یہ ملک اپنے پڑھے لکھے آدمی سے ڈرتا بھی ہے اور اسے سزا بھی دیتا ہے۔ جتنا آپ جانتے ہیں اتنا آپ سوال کرتے ہیں۔ جتنا سوال کرتے ہیں اتنا خطرناک ہو جاتے ہیں۔ ایک مزدور دبئی سے واپس آ سکتا ہے، کیونکہ کسی کو اس سے خطرہ نہیں۔ لیکن ایک انجینئر جو کرپٹ ٹھیکوں کو سمجھتا ہو، ایک ڈاکٹر جو جعلی دواؤں کے مافیا کو پہچانتا ہو، ایک پروفیسر جو نوجوانوں کو سوال سکھا سکتا ہو، یہ لوگ واپسی پر محفوظ نہیں رہتے۔
گزشتہ سالوں میں ہر روز نو سو زائد ہنر مند سے پاکستانی ملک سے نکل گئے۔ ایشیا میں اس رفتار سے برین ڈرین کم ہی دیکھی گئی۔ وہ لوگ صرف خوب صورتی دیکھنے کے لیے نہیں گئے۔ وہ اس وقت گئے جب انہیں دھمکی ملی، رشوت مانگی گئی، یا جب انہوں نے اپنے جائز حقوق غصب ہوتے دیکھے۔
اصل حل پیسے میں نہیں، ریاست کے رویّے میں ہے۔ لوگ پاکستان اس لیے نہیں چھوڑتے کہ باہر تنخواہ زیادہ ہے، لوگ اس لیے نہیں لوٹتے کہ یہاں عام آدمی کے لئے قانون کمزور ہے۔
سب سے پہلا قدم عدالتی نظام کی بحالی ہے۔ ایسا نظام جس میں جج فائل نہیں، قانون دیکھے اور پولیس فون نہیں، ایف آئی آر دیکھے۔ جب ایک بااثر آدمی اور ایک عام شہری ایک ہی عدالت میں ایک ہی قانون کے نیچے کھڑے ہوں گے، تب واپسی شروع ہوگی۔
دوسرا کام وسل بلوور کے تحفظ کا قانون ہے۔ اگر کوئی ڈاکٹر جعلی دوا کی خبر دے، کوئی انجینئر خریداری میں دھاندلی رپورٹ کرے، تو ریاست اس کی پشت پر کھڑی ہو۔
تیسرا قدم یہ ہے کہ ذہانت کو نظریاتی مشکوک فہرست سے نکالا جائے۔ سوال کرنے والا طالب علم دشمن نہیں ہوتا، یہی کل کا محقق اور موجد بنتا ہے۔ جامعہ کو پناہ گاہ بنائیں، نگرانی کا کیمپ نہیں۔
چوتھی شرط یہ ہے کہ ریاست اپنی اقلیتوں کی حفاظت کرے۔ ڈاکٹر اگر اپنے ہی شہر میں خوف کے ساتھ ڈیوٹی کرے گا تو ملک اپنی صلاحیت خود دھکیل کر باہر بھیج رہا ہے۔
آخری بات یہ کہ ٹیکس میں چھوٹ اور مالی مراعات اچھی چیز ہے، مگر خوف زدہ آدمی اغوا کے خطرے کے بدلے ٹیکس ریلیف نہیں لیتا۔ پہلے تحفظ دیجیے، سرمایہ اور صلاحیت خود چلی آئے گی۔
حل مشکل نہیں۔ لیکن پہلے ماننا پڑے گا کہ مسئلہ کیا ہے۔ جو ملک اپنی بیماری تسلیم نہیں کرتا، وہ دوا بھی نہیں ڈھونڈتا۔ بیرون ملک پاکستانی بے وفا نہیں۔ وہ خوف زدہ ہے۔ اسے معلوم ہے کہ یہاں آدمی اپنے ذہن، ضمیر، عقیدے اور پیشے کے ساتھ محفوظ نہیں اور سب سے تکلیف دہ بات یہ ہے کہ وہ یہ جملہ کھل کر اپنے ہی ملک میں نہیں کہہ سکتا۔ کیونکہ اب یہ بات کہنا بھی خطرناک ہو چکا ہے۔
