Gujrat Se Goddard Tak
فروری 2003 کا ایک عام سا دن تھا۔ آسمان معمول کے مطابق تھا۔ زمین بھی ویسی ہی تھی۔ لیکن چند لمحوں میں سب کچھ بدل گیا۔ امریکہ کا خلائی جہاز کولمبیا زمین کی فضا میں داخل ہوا اور پھر اچانک آگ کا گولہ بن گیا۔ سات خلاباز جل کر بکھر گئے۔ پوری دنیا نے سانحہ دیکھا۔ ٹیلی ویژن اسکرینوں پر شعلے تھے۔ خبروں میں خاموشی تھی۔ انسان کی طاقت بھی سامنے تھی اور اس کی بے بسی بھی۔
اسی روز پاکستان کے ضلع گجرات کے ایک چھوٹے سے گاؤں کڑیانوالہ سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان نے یہ خبر سنی۔ اس نوجوان کا نام یاسر طفیل تھا۔ اس گاؤں میں بجلی کم تھی۔ راتیں گہری تھیں۔ آسمان صاف تھا اور صاف آسمان اکثر بڑے خواب پیدا کرتا ہے۔ دیہات کے بچوں کے پاس آج کی طرح ہزار اسکرینیں نہیں ہوتیں، ان کے پاس ایک ہی اسکرین ہوتی ہے، آسمان۔ وہ ستاروں، سیاروں کے درمیان انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن کو گھومتے ہوئے دیکھتا تھا۔ وہ نویں کلاس میں تھا کہ اس کی فیملی امریکہ ہجرت کر گئی تھی۔ ہجرت انسان کو دو چیزیں دیتی ہے، تنہائی اور ہدف۔ کوئی کہیں بھی رہتا ہو، جس نے ان دونوں کو سنبھال........
