Mazdoor Ki Pension Aur Adalat Ka Tareekh Saz Faisla
مزدور کی پنشن اور عدالت کا تاریخ ساز فیصلہ
ریاست اور شہری کے درمیان تعلق صرف قوانین اور ضوابط کا مجموعہ نہیں ہوتا، بلکہ یہ ایک ایسا اخلاقی معاہدہ بھی ہوتا ہے جس کی بنیاد اعتماد، تحفظ اور وقار پر رکھی جاتی ہے۔ جب ایک مزدور اپنی جوانی، اپنی توانائی اور اپنی صلاحیتیں کسی ادارے کے نام کر دیتا ہے، تو اس کے بدلے میں وہ صرف ماہانہ اجرت ہی نہیں بلکہ بڑھاپے میں ایک محفوظ زندگی کی امید بھی رکھتا ہے۔ یہی امید پنشن کی صورت میں سامنے آتی ہے، ایک ایسا سہارا جو عمر کے آخری حصے میں انسان کو بے بسی سے بچاتا ہے۔
حال ہی میں وفاقی آئینی عدالت پاکستان نے ایک تاریخی فیصلہ سنایا، جس نے نہ صرف چند افراد کو انصاف فراہم کیا بلکہ پورے نظامِ سماجی تحفظ کو ایک نئی سمت دی۔ اس مقدمہ کا درخواست گزار ایمپلائز اولڈ ایج بینیفٹ انسٹی ٹیوشن (ای او بی آئی) تھا، جس نے لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے محمد رفیق، محمد یعقوب، شہباز حسین، محمد عمران بٹ اور رشید انور جیسے محنت کش افراد کے حق میں دیئے گئے فیصلے کے خلاف وفاقی آئینی عدالت سے رجوع کیا تھا۔ یہ مقدمہ چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سنا، جس میں جسٹس سید حسن اظہر رضوی اور جسٹس ارشد حسین........
