menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Hepatitis: Aik Khamosh Magar Qabil e Ilaj Waba

26 0
26.07.2026

ہیپاٹائٹس: ایک خاموش مگر قابلِ علاج عالمی وبا

ہر سال 28 جولائی کو دنیا بھر میں عالمی یومِ ہیپاٹائٹس منایا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد ایک ایسے خطرناک مگر اکثر نظر انداز کیے جانے والے مرض کے بارے میں آگاہی پھیلانا ہے جو خاموشی سے لاکھوں زندگیاں متاثر کر رہا ہے۔ یہ دن صرف ایک یادگار نہیں بلکہ ایک عالمی اپیل ہے کہ ہم ہیپاٹائٹس جیسے مہلک مرض کے خلاف متحد ہو جائیں۔ اس دن کا انتخاب اس لیے کیا گیا کیونکہ یہ نوبیل انعام یافتہ سائنسدان ڈاکٹر باروچ بلومبرگ کی سالگرہ ہے جنہوں نے ہیپا ٹائٹس بی وائرس کو دریافت کیا اور اس کی تشخیص اور ویکسین کی بنیاد رکھی۔ ان کی تحقیق نے طب کی دنیا میں انقلاب برپا کیا اور کروڑوں انسانوں کی زندگیاں محفوظ بنائیں۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق ہیپاٹائٹس آج بھی دنیا کے بڑے صحت عامہ کے چیلنجز میں سے ایک ہے اور بدقسمتی سے کروڑوں افراد اب بھی اس بیماری سے لاعلمی کی حالت میں زندگی گزار رہے ہیں۔

ہیپاٹائٹس ایک طبی اصطلاح ہے جو جگر کی سوزش کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ جگر انسانی جسم کا ایک نہایت اہم عضو ہے جو خون کو صاف کرتا ہے، توانائی ذخیرہ کرتا ہے، ہاضمے میں مدد دیتا ہے اور زہریلے مادوں کو جسم سے خارج کرتا ہے۔ جب جگر میں سوزش ہو جائے تو اس کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے اور مختلف پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ اگر یہ بیماری دیر تک برقرار رہے تو یہ جگر کے سکڑنے یا جگر کے کینسر تک بھی پہنچ سکتی ہے۔ ہیپاٹائٹس کی پانچ بڑی اقسام ہیں جن میں ہیپاٹائٹس اے، ہیپاٹائٹس بی، ہیپاٹائٹس سی، ہیپاٹائٹس ڈی اور ہیپاٹائٹس ای۔ ان میں سب سے زیادہ خطرناک اور عام اقسام ہیپاٹائٹس بی اور سی ہیں، کیونکہ یہ اکثر دائمی شکل اختیار کر لیتی ہیں۔

ہیپاٹائٹس مختلف طریقوں سے پھیل سکتا ہے اور یہی اس کی خطرناک خصوصیت ہے کہ یہ اکثر غیر محسوس طریقے سے منتقل ہو جاتا ہے۔ ہیپاٹائٹس کے پھیلاؤ کی چند نمایاں وجوہات درج ذیل ہیں۔

آلودہ پانی اور خوراک: ہیپاٹائٹس اے اور ای زیادہ تر آلودہ پانی یا غیر صاف خوراک کے ذریعے پھیلتے ہیں۔ یہ اقسام ترقی پذیر ممالک میں زیادہ عام ہیں۔ یونیسف کے مطابق پاکستان میں اندازہ 70 فیصد گھرانے بیکٹیریا سے آلودہ پانی استعمال کرتے ہیں،........

© Daily Urdu