menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Maeeshat Ka Neela Ufaq

8 0
08.07.2026

ایک بوڑھا ملاح اکثر اپنے نوجوان شاگرد سے کہا کرتا تھا کہ سمندر کبھی کسی قوم کو غریب نہیں بناتا، قومیں اپنی بے بصیرتی سے غریب ہوتی ہیں۔ شاگرد ہر روز کشتی لے کر ساحل سے لوٹتا، مچھلیاں بیچتا اور سمجھتا کہ سمندر کی دولت صرف اتنی ہی ہے جتنی اس کے جال میں آتی ہے۔ ایک دن بوڑھے ملاح نے اسے ساحل پر کھڑا کرکے کہا، "تم پانی کو دیکھتے ہو، میں امکانات کو دیکھتا ہوں۔ تم مچھلیاں گنتے ہو، دنیا بندرگاہیں، جہاز، توانائی، معدنیات، تجارت اور مستقبل گنتی ہے"۔ یہی فرق آج کی عالمی معیشت اور پاکستان کی معاشی سوچ کے درمیان بھی دکھائی دیتا ہے۔

دنیا نے گرین اکانومی سے آگے بڑھ کر بلیو اکانومی کو اکیسویں صدی کی نئی معاشی سلطنت قرار دے دیا ہے جہاں سمندر محض پانی کا ذخیرہ نہیں بلکہ سرمایہ، روزگار، تحقیق، توانائی، خوراک اور سفارتی اثرورسوخ کا سب سے بڑا ذریعہ بن چکا ہے۔ پاکستان کو قدرت نے پانچ بڑے دریاؤں، دنیا کے وسیع ترین نہری نظام، ایک ہزار کلومیٹر سے زائد ساحلی پٹی، تین اہم بندرگاہوں اور لاکھوں مربع کلومیٹر سمندری معاشی زون کی صورت میں وہ خزانہ عطا کیا ہے جس کے لیے بہت سے ممالک صرف خواب دیکھ سکتے ہیں، مگر المیہ یہ ہے کہ........

© Daily Urdu