Jawab Aan Ghazal
محترم مولانا عمار خان ناصر صاحب نے مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب مدظلہ کے ساتھ کچھ عرصہ قبل ہونے والی اپنی مراسلت کا حوالہ دیتے ہوئے اس میں مفتی صاحب کی طرف سے اپنے فکری منہج کے بارے میں ظاہر کیے گئے تین بنیادی خدشات کی نشان دہی کی ہے۔ مولانا عمار صاحب نے نہ صرف ان خدشات کو نقل کیاہے بلکہ اپنی سابقہ معروضات اور اس مراسلت کو اہلِ علم کے استفادے کے لیے دوبارہ سامنے لانے کی ضرورت بھی محسوس کی ہے اور اسے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر شیئر کردیا ہے۔ چونکہ یہ تینوں نکات ان کے فکری رجحانات، بعض بنیادی اصولی مسائل کے بارے میں ان کے طرزِ استدلال اور غامدی صاحب کے ساتھ ان کے فکری تعلق سے متعلق ہیں، اس لیے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ان تینوں پر مختصر گفتگو کرلی جائے اور یہ دیکھا جائے کہ مفتی تقی عثمانی صاحب کے یہ خدشات کس بنیاد پر پیدا ہوئے، ان میں کس قدر وزن تھا اور موجودہ صورتِ حال کے تناظر میں ان کی معنویت کیا بنتی ہے۔ چنانچہ ذیل میں ہم مولانا عمار خان ناصر صاحب کے بیان کردہ انہی تین بنیادی نکات کو بالترتیب ذکر کرتے ہیں۔
مفتی صاحب مدظلہ نے جو پہلا خدشہ ظاہر کیا وہ یہ تھا کہ مولانا عمار خان ناصر صاحب کے بعض فکری مواقف کا مجموعی اندازِ فکر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جس کے پیش نظر یہ اندیشہ رہتا ہے کہ وہ مستقبل میں کسی بڑی فکری گمراہی کا شکار ہو سکتے ہیں۔ مفتی صاحب کا یہ خدشہ اپنی جگہ ایک اہم علمی اور فکری تنبیہ کا درجہ رکھتا ہے۔ جمہور اہلِ علم سے اختلاف فی نفسہٖ کوئی ایسی چیز نہیں جسے ہمیشہ گمراہی پر محمول کیا جائے لیکن جب کوئی شخص محض اپنے فہم کو مسلسل جمہور کی علمی روایت سے الگ کرتے ہوئے صرف دلیل اور استدلال کو حق کی میزان سمجھنے لگے تو اس طرزِ فکر میں بے........
