menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Iqtidar Ka Nasha

33 0
31.03.2026

نکو لائی بلگانن سوویت یونین کے وزیر اعظم تھے، وہ 1955 سے 1958 تک اس عہدے پر فائز رہے۔ 1957 میں سوویت یونین کی تاریخ میں ایک عجیب سیاسی لطیفے نے جنم لیا اور بعد ازاں یہ سیاسی لطیفہ اقتدار پرستی کی بہترین مثال ٹھہرا۔ نکولائی بلگانن وزیر اعظم تھے اور اس دور میں سوویت یونین میں کمیونسٹ پارٹی کا سیکرٹری جنرل وزیر اعظم کے برابر سمجھا جاتا تھا۔ 1957 میں خروشچیف کمیونسٹ پارٹی کے سیکرٹری جنرل تھے اور کمیونسٹ پارٹی نے بلگانن کی وزارت عظمیٰ کے دوران ہی خروشچیف کو وزیر اعظم بنانے کا اعلان کر دیا جس کے بعد سوویت یونین میں دلچسپ سیاسی صورت حال پیدا ہوگئی۔

آئین اور قانون کے مطابق بلگانن وزیر اعظم تھے جبکہ خروشچیف کو بھی مستقبل کے وزیر اعظم کی حیثیت حاصل تھی۔ اب ملک میں دونوں وزیر اعظموں کے احکامات جاری ہونے لگے۔ پوری اسٹیبلشمنٹ کنفیوژن کا شکار ہوگئی اور اس کے پاس دونوں حکمرانوں کے احکامات ماننے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔

1958 میں اس وقت صورتحال مزید دلچسپ ہوگئی جب دونوں وزےر اعظموں نے ایک ہی دفتر میں بیٹھنا شروع کر دیا۔ اب مسئلہ یہ تھا کہ کس کے احکامات مانے جائیں اور کس کے نہیں، کس کو پروٹوکول اور گارڈآف آنر پیش کیا جائے اور کس کو نہیں۔ سوویت یونین کی بیورو کریسی نے اس کا حل یہ نکالا دونوں کو وزیر اعظم کا پروٹوکول دینا شروع کر دیا۔ دونوں کی گاڑیاں ساتھ ساتھ چلنے لگی اور دونوں کو گارڈ آف آنر پیش کیا جانے لگا۔ دونوں کو ایک ہی لنچ اور ڈنر سرو کیا جانے لگا اور دونوں ایک ہی وقت میں وزیر اعظم ہاؤس سے باہر نکلتے۔ ان مسائل کے بعد بڑا مسئلہ سفارتی دنیا کا تھا۔

روس کا دورہ کرنے والے سربراہان اور روس میں متعین سفیروں کو عجیب مشکلات کا سامنا کرنا پڑا،........

© Daily Urdu