menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Kitabat Se Click Tak, Sahafat Ke Teen Adwar

18 10
10.01.2026

یہ ساٹھ کی دہائی کا اختتامی دور تھا، گاؤں کی سادہ زندگی تھی، شام ڈھلتی تو والد صاحب مقامی بازار سے نوائے وقت کا پرچہ اٹھا کر گھر لاتے تھے، اس وقت پورا اخبار زیادہ سے زیادہ دو اور کبھی کبھار تین صفحات پہ مشتمل ہوتا تھا۔ والد صاحب یہ اخبار اور اس کی چیدہ چیدہ سرخیاں دادا جی کو پڑھ کے سناتے تھے اور کچھ سیاسی تبصرے بھی کرتے تھے۔ اس وقت اخبارات کاتب لکھتے ہوتے تھے۔ کتابت باقاعدہ ایک فن اور روزی کا ذریعہ تھا۔

ستر اور اسی کی دہائی میں بڑے اردو اور انگریزی اخبارات کی تعداد دسں کے لگ بھگ یا اس سے نیچے رہی۔ یہ اخبارات نہ صرف ملکی صحافت کی ریڑھ کی ہڈی تھے بلکہ عوام کی رائے اور شعور کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کرتے تھے۔ صبح سویرے اخبار خریدنے کی روایت ایک تہذیبی علامت سمجھی جاتی تھی اور فیصلوں، مباحثوں اور سیاسی سمت کا تعین انہی صفحات سے ہوتا تھا۔ پھر پچھلی دو دہائیوں میں پاکستان میں پرنٹ میڈیا کا ایک اور دور آیا، جب پرانے اخبارات جنگ، نوائے وقت، مساوات، پاکستان ٹائمز، دی مسلم وغیرہ کے مقابلے میں نئے اخبارات خبریں، پاکستان، جناح، ایکسپریس، نئی بات، 92-نیوز، دی نیوز، نیشن، ایکسپریس ٹریبیون وغیرہ جیسے درجنوں اخبارات نکالے گئے۔ کمپیوٹر کمپوزنگ کے باعث اب کتابت اور کاتب بھی مارکیٹ سے غائب ہو چکے ہیں۔ اردو خطاطی جو کبھی ایک فن جانا جاتا تھا، اب کسی کو اس کا پتہ ہی نہیں۔ قوم کی اب ہینڈ رائٹنگ نہ صرف خراب ہو........

© Daily Urdu