Ghanshyam Singh Aur Dada Ji Ki Kahani
1945 کی خزاں کی آمد تھی۔ ابھی برف نہیں پڑی تھی، بیساکھ کا مہینہ تھا۔ پنجاب اور سرحد کے سنگم پر واقع ایک چھوٹے سے بازار میں جو محض چند دکانوں پر مشتمل تھا، میرے دادا، جناب سلطان خان، اپنے دوست گھنشیام سنگھ کے ساتھ خوش گپیوں میں مصروف تھے۔
گھنشیام سنگھ گزشتہ کئی برسوں سے دادا جی کا دوست تھا۔ وہ بازار سے متصل انگریز کے کیمپ آفس (باڑیاں چھاؤنی) میں ملازم تھا۔ اس کا آبائی گاؤں ٹیکسلا تھا، جہاں اس کی برادری آباد تھی اور وہ سال میں دو مرتبہ اپنے اہلِ خانہ سے ملنے وہاں جاتا تھا۔
چند برس قبل اس کی شادی ہوئی تھی اور اس کے دو بچے تھے۔ فطرتاً وہ ایک نیک دل اور سادہ انسان تھا۔ ادھر دادا جی نے ایک سال قبل ہی بازار میں کریانے کی ایک چھوٹی سی دکان قائم کی تھی۔ اسی ایک سال میں ناپ تول کی دیانت اور لین دین کی صفائی کے باعث انہوں نے ایک معتبر نام کما لیا تھا۔ ان کی دکان پر ہندو، سکھ اور عیسائی سبھی آتے تھے، زیادہ تر ہزارہ کے علاقے سنداں اور ملحقہ بستیوں سے۔
گھنشیام سنگھ رفتہ رفتہ دادا جی کی نیک سیرت اور کردار سے متاثر ہوتا چلا گیا۔ پھر ایک دن ایسا آیا کہ اس نے خاموشی سے، دادا جی کے کہنے پر اسلام قبول کر لیا۔ مگر ساتھ ہی اس نے........
