menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Khumr

36 0
22.08.2026

خمر کے لغوی معنی شراب ہے۔ شراب جس طرح آج کل فرنگی تہذیب میں جائز ہی نہیں بلکہ عین اس تہذیب کا جزو بنا ہوا ہے قبل از اسلام بھی اسی طرح سب تہذیبوں میں یہ شامل رہی ہے اور لوازم شائستگی میں سمجھا جا تاتھا۔ روئے زمین میں ہندی، مصری اور یونانی رومی تہذیبیں تو خیر جاہل تہذیبیں تھیں مگر اسرائیلی اور مسیحی بھی کسی سے کم نہ تھیں شریعت اسلام ہی دنیا کا واحد قانون ہے جس نے آکر اس کی حرمت کا اعلان کیا۔

جب مسلمان ہجرت کرکے مدینہ میں آباد ہوئے اس وقت مدینہ شریف میں یہودی ہی اکثریت میں تھے۔ بڑے بڑے شرفاء اعلانیہ شراب پیتے تھے با این ہمہ کچھ نیک شرفاء ایسے بھی تھے جو اس کو اچھا نہ سمجھتے تھے اور انہوں نے اسے ترک کیا ہوا تھا بعض صحابہ جسے حضرت عمرؓ اور معاذؓ نے رسول کریم ﷺ سے شراب کے متعلق دریافت فرمایا کہ ایسی چیز جو عقل و مال دونوں کو غارت و برباد کرنے والی ہے اس کے بارے میں کیا حکم ہے اور حضرت عمرؓ اکثر یہ دعا مانگا کرتے تھے اے اللہ تعالیٰ شراب کے بارے میں فیصلہ کن حکم نازل فرما۔

شریعت اسلامیہ میں اکثر احکام بتدریج نازل ہوئے تاکہ لوگوں کے ذہن میں فوری بوجھ نہ پڑے اور طبیعت آہستہ آہستہ اصل حکم کی طرف مائل ہو جائے یہ طریقہ انسانی فطرت کے عین مطابق تھا۔ چنانچہ حرمت خمر اور میسر کے بارے میں 2 ہجری کو حکم ہو ا جس میں ارشاد ربانی ہے: لوگ آپﷺ سے شراب اور خمار (جواء) کے بارے میں دریافت کرتے ہیں کہ دیجیے کہ ان میں بڑا گناہ ہے اور لوگوں کے لئے فائدے بھی ہیں اور........

© Daily Urdu