menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Saat Feesad Ka Mojza Aur Siasat Ke Jadugar

22 0
20.06.2026

سات فیصد کا معجزہ اور سیاست کے جادوگر

بندن میاں صبح سویرے اخبار ہاتھ میں لیے بیٹھے تھے۔ چہرے پر ایسی سنجیدگی طاری تھی جیسے قوم کی تقدیر کا سارا بوجھ اور قومی خزانے کی آخری چابی ان کی اپنی جیب سے گم ہوگئی ہو۔ میں نے پاس جا کر پوچھا خیریت ہے بندن میاں؟ آج کچھ زیادہ ہی فکر مند دکھائی دے رہے ہیں۔ کیا سرحدوں پر کوئی نئی ہلچل ہے یا پھر پڑوس کی مرغی نے آپ کے صحن میں انڈا دے دیا ہے؟ بندن میاں نے چشمے کو ناک کی ہڈی پر تھوڑا اوپر سرکایا، اخبار کو بڑی نفاست سے تہہ کیا اور ایک گہری، فلسفیانہ سانس لے کر بولے، میاں، فکر مند نہ ہوں تو کیا کروں؟ رات تک تو مہنگائی ایک طرف کھڑی اپنے نوکیلے دانت نکال کر ہمیں ڈرا رہی تھی اور صبح اٹھا تو اخبار کی سرخی نے دل کی دھڑکن ہی روک دی۔ معلوم ہوا کہ حکومتِ وقت نے تنخواہوں اور پنشن میں پورے سات فیصد کا تاریخی اور انقلابی، اضافہ فرما دیا ہے۔ اب میری سمجھ سے باہر ہے کہ اس شاہانہ سخاوت پر خوشی کا جشن مناؤں، محلے میں مٹھائی بانٹوں یا پھر اپنے غریب کیلکولیٹر کے گلے لگ کر تعزیت کروں جو صبح سے اس اضافے کے ہندسوں کو ضرب تقسیم کرتے کرتے خود کوسنے دے رہا ہے۔

میں نے مسکرا کر کہا، بندن میاں، آخر سات فیصد کے اضافے میں مسئلہ کیا ہے؟ کچھ نہ ہونے سے تو کچھ ہونا ہمیشہ بہتر ہوتا ہے۔ بندن میاں نے چائے کی پیالی کو میز پر پٹخا ان کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک ابھری اور بولے مسئلہ؟ میاں تمہیں مسئلہ نظر نہیں آتا؟ ہمارے اس پاک دیس میں اضافہ اور کمی، دو الگ الگ چیزیں نہیں ہیں یہ دونوں ایک ہی خاندان کے سگے بھائی معلوم ہوتے ہیں۔ جب اسلام آباد کے ٹھنڈے کمروں میں بیٹھی حکومت کسی چیز میں اضافہ، کرتی ہے تو غریب عوام کی جیب میں فوری طور پر کمی، کا احساس بیدار ہو جاتا ہے اور جب بازار والے راتوں رات قیمتیں بڑھاتے ہیں تو وہ اضافہ پوری آب و تاب، پورے جاہ و جلال اور پورے لشکرکے ساتھ غریب کے کچن میں دندناتا ہوا داخل ہوتا ہے۔ تم نے کبھی اس سات فیصد کو غور سے دیکھا ہے؟ میں نے معصومیت سے سر ہلایا نہیں۔ بندن میاں نے تاسف سے سر ہلایا یہی تو ہماری پوری قوم کی بدقسمتی ہے۔ ہم نے کبھی ان جادوئی ہندسوں کو غور سے دیکھا ہی نہیں۔ اگر دیکھ لیتے تو معلوم ہوجاتا کہ یہ سات فیصد صرف ایک ریاضی کا عدد نہیں ہے بلکہ یہ ہمارے نظام کا ایک مکمل فلسفہ ہے۔ یہ اقتدار کے ایوانوں سے پھوٹی ایک ایسی لطیف، مزاحیہ اور سحر انگیز تخلیق ہے جس پر بجٹ بنانے والی حکومت خود اندر بیٹھ کر ہنستی ہے اور باہر کھڑی عوام خون کے آنسو روتی ہے۔

وہ کہنے لگے کہ جب رات کو ٹی وی پر اس معجزے کا اعلان ہوا تو چینلز کے اینکر پرسن ایسے خوشی سے پھولے نہیں سما رہے تھے جیسے ناسا والوں نے چاند پر دوبارہ پاکستانی پرچم گاڑ دیا ہو یا ملک کا سارا قرضہ کسی غیبی طاقت نے معاف کر دیا ہو۔ خبریں ایسے چمکدار لہجے میں پڑھی جا رہی تھیں جیسے ہر ریٹائرڈ بابو اور سرکاری ملازم کے گھر کے باہر سونے کی کان دریافت ہو چکی ہو اور اب غربت ہمیشہ کے لیے بوریا بستر گول کرکے جا چکی ہے۔ پٹی چل رہی تھی ملازمین کی موجیں پنشن میں سات فیصد کا خطیر اضافہ میرے محلے کے ایک ریٹائرڈ کلرک جو عمر بھر فائلوں کا پیٹ بھرتے بھرتے اب خود بوڑھے اور لاغر ہو چکے ہیں یہ مژدہ سنتے ہی اپنا پرانا کیلکولیٹر اٹھا لائے۔ انہوں نے بڑی عرق ریزی سے عینک کے پیچھے سے حساب لگایا تو پتا چلا کہ مہینے کے آخر میں جتنے روپے بڑھیں گے اتنے میں تو ان کی شوگر کی دوا کا ایک پتا بھی پورا نہیں آتا۔ وہ بیچارے کچھ دیر تو آسمان کو تکتے رہے پھر دھیمی آواز میں بولےلگتا ہے حکومت نے میری صحت اور خوراک کو مدنظر رکھ کر ہی یہ باریک اضافہ کیا ہے تاکہ میں صرف دوا........

© Daily Urdu