menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Footpath Ke Basi

39 0
19.09.2026

بندن میاں آج فیس بک پر مٹر گشت کر رہے تھے کہ اچانک ان کے سامنے ایک تحریر آئی۔ تحریر پر نظر پڑی تو بندن میاں ایک دم رک گئے۔ چند لمحوں کے لیے انگلی موبائل کی اسکرین پر ٹھہر گئی اور نگاہیں جیسے اس تصویر کے اندر اتر گئیں۔ شعر لکھا تھا۔

یہ لوگ جو فٹ پاتھ پہ کرتے ہیں بسیرا گھر ان کے اگر ہیں تو یہ گھر کیوں نہیں جاتے

بندن میاں نے شعر دوبارہ پڑھا تو جانے کیوں لاہور کی سڑکیں آنکھوں کے سامنے گھومنے لگیں۔ کراچی کے فٹ پاتھ یاد آنے لگے۔ سکھر کی شاہراہوں کے کنارے بیٹھے اور لیٹے ہوئے چہرے نظر آنے لگے۔ پھر منظر پھیلتا چلا گیا۔ اسلام آباد سے کوئٹہ تک اور پشاور سے حیدرآباد تک ملک کی کتنی ہی شاہراہوں کے کنارے ایسے انسان دکھائی دینے لگے جنہیں ہم روز دیکھتے ہیں مگر شاید کبھی غور سے نہیں دیکھتے۔

یہ کوئی پتھر نہیں ہیں۔ انسان ہیں۔ کسی فٹ پاتھ پر ایک بوڑھا شخص چادر میں خود کو لپیٹے پڑا ہے۔ قریب ہی ایک عورت اپنے بچوں کو سینے سے لگائے رات گزارنے کی کوشش کر رہی ہے۔ کہیں ایک نوجوان دیوار سے ٹیک لگائے خاموش بیٹھا ہے۔ اس کے پاس ایک چھوٹا سا تھیلا ہے جس میں شاید اس کی پوری دنیا سمٹی ہوئی ہے۔ کہیں ایک معذور شخص ہاتھ میں پیالہ لیے گزرنے والوں کے چہروں کو دیکھ رہا ہے۔ کوئی بچہ خالی آنکھوں سے گاڑیوں کی قطار کو دیکھ رہا ہے اور شاید سوچ رہا ہے کہ ان میں سے کسی گاڑی کا دروازہ کھلے گا اور اس کی قسمت بھی اس کے ساتھ اندر بیٹھ جائے گی۔

دن کے وقت یہی لوگ ہماری نظروں کے سامنے ہوتے ہیں۔ دھوپ ان کے جسموں کو جھلساتی ہے۔ سردی ان کی ہڈیوں میں اترتی ہے۔ بارش ان کے بستر کو بھگو دیتی ہے اور رات کا اندھیرا ان کے گرد ایک ایسی خاموش چادر تان دیتا ہے جس کے نیچے ان کی بے بسی چھپی ہوتی ہے۔ ہم اپنی گاڑیوں کے شیشے بند کرکے ان کے قریب سے گزر جاتے ہیں۔ کبھی کوئی سکہ اچھال دیا۔ کبھی نظر چرا لی اور کبھی یہ سوچ کر آگے بڑھ گئے کہ یہ تو ان کی قسمت ہے۔

مگر بندن میاں سوچتے ہیں کہ آخر قسمت بھی کتنی ظالم چیز ہے کہ کسی کے حصے میں محل اور کسی کے حصے میں فٹ پاتھ لکھ دے۔ کیا واقعی یہ لوگ ہمیشہ سے ایسے ہی تھے۔ کیا ان کے ماضی میں کوئی گھر نہیں تھا۔ کیا ان کی کوئی ماں نہیں تھی جس نے انہیں........

© Daily Urdu