Uswa: Hamari Nai Nasal Ka Pehla Roshan Diya
اسوہ: ہماری نئی نسل کا پہلا روشن دیا
میں اول و آخر ایک افسانہ نگار ہوں۔ میں اپنے سماج میں ارد گرد وقوع پذیر ہونے والے ہر واقعے کو بیان کرنے کے لیے کہانی کی صورت گری کرتا رہا ہوں۔ ہم جو کچھ کشید کرتے ہیں وہ ہماری زندگی سے جڑا ہوا ہوتا ہے۔ کبھی جگ بیتی اور کبھی آپ بیتی۔ میں نے ناول اور افسانے کے علاوہ آپ بیتی بھی لکھی، جس میں بہت کچھ بیان کیا مگر بہت کچھ کہیں دانستہ اور کہیں نادانستہ کہنے سے رہ گیا۔
ویسے تو اس سانحے کے گزرنے کے فوراََ بعد میں نے آپ کو سنانے کے لیے تین افسانے لکھے تھے اور 2011 میں اپنی کتاب کولاژ میں شامل کیے تھے اور اس کتاب کا انتساب آپ کے نام لکھا تھا۔ مگر وہ سادہ بیانیہ نہیں تھا۔ وہ افسانوی انداز تحریر تھا۔ مگر ادب سے دلچسپی رکھنے والے اس افسانویت میں سے معنویت کھون نکالتے ہیں۔ ان میں ایک قصہ ہے جدائی کا، ایک ماں جو زندگی جینا چاہتی تھی، مگر اس کے ارد گرد ماحول ہی نہیں تھا۔ وہ لوگ بظاہر پرتعیش زندگی گزارتے تھے اور بڑے کا گوشت کھانے والوں کو چھوٹا کہنے میں عار محسوس نہیں کرتے تھے، مگر حقیقت میں وہ فرسودہ روایات اور جابرانہ خاندانی نظام سے بندھے ہوئے تھے۔
جب نئی نویلی دلہن نے خواہش کی کہ وہ اپنی تعلیم مکمل کرے تو وہ کہتے کہ بہو ہمارے بیٹے سے زیادہ تعلیم یافتہ نہیں ہوسکتی اور جب اس نے چاہا کہ وہ اپنے شوہر کے ساتھ اپنا الگ گھر بسائے تو اس کے شوہر نے طنزیہ کہا کہ وہ نامرد ہوتے ہیں جو اپنی بیویوں کے کہنے پر ماں باپ سے الگ ہوجاتے ہیں۔ یہ جملہ کہتے ہوئے اسے یاد ہی نہیں رہا کہ چالیس سال پہلے اس کا اپنے والد اپنے ماں باپ سے الگ ہوتے ہوئے تین بچوں کو لے کر حیدرآباد سے کراچی آبسے تھے۔ وہ جو کہتے تھے کہ یہ لڑکی ہمارے پچیس لوگوں کے گھر کوتوڑنا چاہتی ہے، اب یہ جواب دینے سے قاصر ہیں کہ کیا وہ پچیس افراد پر مشتمل تین گھر کیوں اب ایسے بکھر گئے کہ ایک دوسرے سے ملنا بھی گوارا نہیں کرتے۔ کیا وہ تین گھر اسی بہونے توڑے ہیں۔ کیوں نہیں مان لیتے کہ وقت کا تیز رفتار دریا ہماری خواہشات کے........
