Jihad, Takfeer: Shia Bradri Ki Tazeeb Kyun Nahi Ruk Rahi?
پاکستان کی فوجی اسٹبلشمنٹ نے جب "افغان جہاد پالیسی" ڈئزائن کی تو اس پالیسی کا ایک اہم جزو پاکستان میں پاکستان میں دیوبندی مدارس سے طلباء اور اساتذہ کی اس جہاد کے لیے بھرتی تھی۔ اس زمانے میں دیوبندی فرقے کی نمائندہ مذھبی سیاسی جماعت جمعیت علماء اسلام تھی۔
اس جماعت کے سربراہ مفتی محمود کی ناگہانی موت کے بعد ان کے نوجوان فرزند مولانا فضل الرحمان کے پاس تھی اور وہ افغانستان میں سوویت یونین کی حمایت یافتہ حکومت کے خلاف مسلح جدوجہد کرنے والے مولویوں کی حمایت تو کر رہے تھے لیکن وہ اس بات کے سخت مخالف تھے کہ پاکستان میں دیوبندی مدارس کو اس "جہاد" کے لیے بھرتی کیمپ میں تبدیل کیا جائے۔ وہ بحالی جمہوریت کی تحریک چلانے والے اتحاد ایم آر ڈی کا حصہ تھے اور اس اتحاد میں ان کی شمولیت جنرل ضیاء الحق کو سخت کھٹکتی تھی۔
پاکستان کی فوجی اسٹبلشمنٹ دیوبندی مدارس عربیہ دینیہ کے بہت سارے سرکردہ مولویوں کو اپنے ساتھ ملانے میں کامیاب رہی تھی۔ اس زمانے میں کراچی میں گلشن اقبال میں اشراف المدارس، جامعہ فاروقیہ، جامعہ الرشید، جامعہ بنوریہ کی انتظامیہ، ملتان میں جامعہ خیر المدارس، دارالعلوم کبیروالہ، لاہور میں جامعہ اشرافیہ، راولپنڈی میں جامعہ تعلیمات القرآن، اکوڑہ خٹک میں دارالعلوم عربیہ اسلامیہ جن کی آگے پھر کئی مزید شہروں میں شاخیں تھیں کی انتظامیہ میں شامل بڑے بڑے نامور اور اونچی کلغی والے مولوی فوجی اسٹبلشمنٹ کی پالیسی کے مطابق ان مدارس کو جہاد افغانستان کے لیے بھرتی کے مراکز بنانے میں کامیاب رہے۔
پرانے مدارس دینیہ کے ساتھ ساتھ اسی دوران نئے مدارس بھی سابق فاٹا کے اندر قائم ہوئے جن میں درجنوں تو بنے ہی جہادی نیٹ ورک کے زیر سایہ تھے۔ امریکی، سعودی اور دیگر عرب ممالک کی فنڈنگ، اسمگلنگ نے اس جہادی نیٹ ورک کو بہت طاقتور کردیا۔ جہاد کشمیر پالیسی کے تحت بھی بھرتی کے مراکز دیوبندی مدارس بھی بنے۔
جب پاکستان کی فوجی اسٹبلشمنٹ کے حکمت یار اور دوسرے افغان مجاہدین گروپ سے تعلقات بگڑے اور اسی دوران پاکستانی اسٹبلشمنٹ کے کشمیری جماعت حزب المجاہدین سے معاملات بھی بگڑ گئے تو پاکستانی فوجی اسٹبلشمنٹ نے سارا زور دیوبندی مدارس پر منتقل کردیا۔ اس نے پرانے افغان مجاہدین کی جگہ دیوبندی طالبان کو دی جبکہ کشمیر کے محاذ پر اس نے ایک طرف حرکتہ الانصار / جیش محمد پر ہاتھ رکھ اور دوسرا اس نے سلفی گروپ لشکر طیبہ پر زور لگایا۔
فوجی اسٹیبلشمنٹ نے مولانا فضل الرحمان کو کمزور کرنے کے........
