Meri Bayaz Aur Novel
بچپن میں ہمدرد نونہال میں حکیم محمد سعید کی نصیحت پڑھی تھی کہ بچوں کو اپنی بیاض بنانی چاہیے۔ کوئی کاپی الگ کرلیں اور جو بات پسند آئے، وہ اس میں لکھتے رہیں۔ مجھے یہ بات پسند آئی۔ ایک کاپی کے پہلے صفحے پر بیاض مبشر لکھا اور اس میں اقوال زریں، لطیفے، نظمیں نقل کرنے لگا۔ رفتہ رفتہ خود بھی لکھنا شروع کردیا۔
ایک دن وہ بیاض تصور بھائی نے دیکھ لی۔ تصور بھائی میرے ماموں زاد اور دو سال بڑے ہیں۔ خانیوال میں جو چند رشتے داروں کے گھر تھے، ان میں ایک وہی ہم عمر دوست تھے۔
ماموں نے 1983 میں کراچی شفٹ ہونے سے پہلے مکان فروخت کیا لیکن سالانہ امتحانات میں دو ماہ تھے اس لیے وہ اہلخانہ سمیت اماں کے گھر آگئے۔ ہم وہیں نانی اماں کے ساتھ رہتے تھے جو تصور بھائی کی دادی تھیں۔
تو ایک دن تصور بھائی نے میری بیاض دیکھ لی۔ چھٹی جماعت کے طالب علم کو چوتھی جماعت کے بچے کی بیاض میں کیا ملا ہوگا۔ انھوں نے مذاق اڑایا، تمھاری یہ........
