menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Mashriq e Wusta Mein Barhti Be Chaini

33 0
06.07.2026

مشرق وسطیٰ میں بڑھتی بے چینی

امریکا اور ایران کی جنگ ختم ہوچکی ہے لیکن اس کے اثرات کافی عرصے تک محسوس کیے جائیں گے۔ جنگ بندی نے بظاہر خطے میں سکون پیدا کردیا ہے لیکن درحقیقت مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں تلاطم ہے۔ پرانے اتحاد، پرانے دشمن اور پرانے حفاظتی تصورات تیزی سے بدل رہے ہیں۔ امریکا اب بھی خطے کی سب سے بڑی فوجی طاقت ہے لیکن اس کے اتحادی پہلی بار سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا مستقبل میں اس پر پہلے جیسا اعتماد کیا جاسکتا ہے؟

اگرچہ جنگ سے ایران کو بھاری فوجی نقصان پہنچا ہے لیکن اس نے ایسی صلاحیت بھی دکھائی جس نے پورے خلیجی خطے کو چونکا دیا۔ آبنائے ہرمز پر اس کے عملی کنٹرول نے ثابت کردیا کہ وہ عالمی توانائی کی سپلائی کو متاثر کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔ جنگ کے دوران ہزاروں میزائل اور ڈرون حملوں نے خلیجی ریاستوں کو احساس دلایا کہ جدید فضائی دفاع کے باوجود وہ مکمل طور پر محفوظ نہیں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جنگ ختم ہونے کے باوجود عدم تحفظ کا احساس پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گیا ہے۔

جنگ سے سب سے بڑا سبق شاید سعودی عرب نے سیکھا۔ چند برس پہلے تک ریاض ایران کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرتا تھا، لیکن حالیہ بحران میں اس کی ترجیح جنگ کو طول دینے کے بجائے اسے روکنا تھی۔ نیویارک ٹائمز کے........

© Daily Urdu